تو صرفی، نحوی قواعد کی رُو سے اُن کو حل کرتے ہوئے ترکیب کریں ۔
سادس:آئندہ عبارت کو کلامِ سابق کے ساتھ مربوط کرے، خواہ: صراحۃً ہو، یا کنایۃً، یاضمناً، یادلالۃً(۱)۔
سابع: تقسیمات میں وجہ حصر(۲) بیان کرے، یعنی یہ بتلائے کہ مطلوب (مقسم)، اقسامِ مذکورہ میں بہ طریقِ استقراء محصور ہے یا بہ طریقِ عقلی۔
ثامن: تعریفات کی تحقیق، یعنی فوائدِ قیود-مَالَہٗ، وَمَا عَلَیْہٖ(۳)-بَیان کرے؛نیز
(۱) اِس کی مثال امرِثامن کے ضمن میں آرہی ہے۔
(۲) الحصرلغۃ’’بند کردن‘‘، وفي الاصطلاح: التردیدُ في أکثرَ من شيئٍ واحدٍ۔ وہوَ علیٰ أربعۃِ أصنافٍ:
[۱]عقليّ: إن جزمَ العَقلُ بالانحصارِ بمجردِ العقل، بأن کانَ دائراً بین النفيِ والاثباتِ من غیر استعانۃِ أمر آخرَ، کحصْر العدَدِ في الزوج والفرد، فإنہ لایَخلو إما أن یکونَ مُنقسماً بمتساویَینِ أو لا؟ فعَلی الأولِ زوجٌ، وعَلی الثاني فردٌ۔
[۲]قطعيّ: إن کانَ مع اِستعانۃِ أمر آخرَ مستفادٌ من النقلِ کحصرِ الصَّلواتِ الخمسِ فيْ أوقاتہا۔
[۳]واستقرائيٌّ: إنْ کان ذلک الأمرُ الآخرُ ہوَ الاستقرائُ، کحصرِ متروکاتِ الحَقیقۃِ في الخمسِ۔
فائدۃ: قولُہ ’’کحصرِ متروکاتِ التسمیۃِ في الخمسِ‘‘ اصول فقہ کی کتابوں میں یہ مضمون بالتفصیل ذکر کیا جاتا ہے کہ، لفظ کے معنیٔ حقیقی کو چھوڑ کر معنیٔ مجازی کو کب مراد لیا جاتا ہے؟ چنانچہ فقہاء نے تتبع اور تلاش سے پانچ جگہیں ذکر فرمائی ہیں : ما یُترکُ بہ حقیقۃُ اللفظِ خمسۃُ أنواعٍ: [۱]دلالۃُ العُرفِ[۲]قد تُتْرکُ الحقیقۃُ بدلالۃٍ في نفسِ الکلامِ [۳]قد تُترکُ الحقیقۃُ بدلالۃِ سیاقِ الکلامِ [۴]قد تُترکُ الحقیقۃُ بدلالۃٍ من قِبَلِ المُتکلمِ [۵]قد تُترکُ بدلالۃِ محلِ الکلامِ۔ (اصول الشاشی ص:۲۵)مرتب
[۴] وجعلي: إن کانَ من لِحاظ القاسمِ، کحصرِ الطبیبِ الحاذقِ الدوائَ والغذائَ للمَریضِ۔ مصنف
فائدہ: وجہ الحصر و وجہ الضبط: ہوَ ما احتاجَ إلیہِ الحَصرُ الاستقرائيُّ۔ ودلیلُ الحصرِ: ہوَ ما اِحتاج إلیہِ الحَصرُ العقليُّ، وضابطۃُ دلیلِ الحصرِ: أنّہ یَجمعُ تعریفاتِ الأقسامِ، فتُجعل تلکَ التعریفاتُ أحوالَ المقسمِ بالنفيِ والاثباتِ۔ مصنف
تفصیل کے لیے ’’دستور الطلباء‘‘ کو ملاحظہ فرمائیں ۔
(۳)مالَہٗ: تعریف کے فوائد قیود کو بیان کرنا کہ جنس کون ہے اور فصل کون؟ جنس نے کیا کام کیا اور فصل نے کیا کام کیا؟ اُس کو ’’مالہ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ماعلیہ: تعریف پر جو اعتراض ہوا ہے اُس کو آگے بیان کیا جائے تو اُس کو ’’ماعلیہ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ (آئینہ: ۷۲)مرتب