رفعِ اشکال متعلق عجب: اس مقام پر ایک اشکال ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی کو کوئی صفتِ کمال عطا فرما دے تو اس کو صفتِ کمال نہ جاننا تو ایک قسم کی ناشکری ہے اور صفتِ کمال جاننا موجبِ ۔ُعجب ہے، تو اَب کیا کرے؟
حل اِشکال کا یہ ہے کہ اس صورت کو صفتِ کمال ضرور سمجھے مگر اپنے کو اس کا مستحق اور موصوفِ حقیقی نہ جانے اور اس پر افتخار نہ کرے، بلکہ محض صفت کو نعمتِ غیبی اور عطیۂ خدا وندی اور ۔َپر توِکمالِ الٰہی سمجھ کر شکر بجا لائے اور سمجھے کہ یہ میرے پاس بہ طور امانت کے ہے اور جب چاہیں مجھ سے سلب کرلیں۔ یہ عطیہ میرے پاس اس طرح ہے جیسے کوئی کریم منعم بادشاہ ادنیٰ چمار کے پاس ایک گوہرِ بے بہا امانت رکھ دے اور جب چاہے لے لے اور خواہ اپنے کرم سے عمر بھر بھی نہ لے، بلکہ اسی کو انتفاع کی اجازت بخش کر اس کے ہم چشموں میں سر فراز کرتا رہے، اس پر بھی وہ اِتراتا نہیں، بلکہ پہلے سے زیادہ کچھ لرزاں ترساں رہتا ہے کہ کہیں اس دُ۔ّرِ
بے بہا کی بے قدری نہ ہوجائے، کہیں ضائع نہ ہوجائے، کہیں بے آب نہ ہوجائے۔ جو شخص اپنے کمالات کو اس طرح سمجھے گا وہ شاکرین میں ہے، نہ کہ خود پسندوں میں۔
ترک کرنا چغل خوری اور کینے کا: فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ ’’چغل خوری اور کینہ دوزخ میں لے جانے والی چیز ہے، مسلمان کے قلب میں دونوں جمع نہیں ہوسکتیں‘‘۔1
ترک کرنا حسد کا: فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ ’’حسد کھا لیتا ہے نیکیوں کو جس طرح کھا لیتی ہے آگ لکڑیوں کو‘‘۔2
ترک کرنا غصے کا: فرمایا اللہ تعالیٰ نے: {وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ} یعنی ایسے لوگ جو روکنے والے ہیں غصے کو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورِ اقدسﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھ کو کچھ وصیت فرما یئے، آپﷺ نے فرمایا: ’’غصہ مت کیا کرو‘‘۔ اس نے کئی مرتبہ یہی بات کہی، آپﷺ ہر بار یہی فرماتے رہے کہ