اقرار اور عمل میںگفتگو یہ ہے کہ آیا ایمان کا شطر ہے یا شرط؟ یعنی ایمان میں داخل ہے یا خارج؟ نظرِ دقیق میں یہ اختلاف محض اختلافِ عنوان ہے، کیوںکہ اس پر سب متفق ہیں کہ بدون اقرار کے وجود ایمان کا ممکن نہیں، تو معلوم ہوا کہ شطر و شرط بالمعنی الاصطلاحی مراد نہیں ہے، ورنہ کوئی شئے بدون وجود جز و شرط کے ممکن الوجود نہیں ہوتی۔ بلکہ جس نے شرط کہا ہے اجرائے اَحکامِ ظاہرہ کے لیے کہا ہے، اور جس نے رُکن کہا ہے اس نے تصریح کردی ہے کہ یہ رُکن زائد قابلِ سقوط ہے۔ سو معنوں میں دونوں قائل متفق ہیں کہ اقرار موقوف علیہ حقیقت ایمان کا نہیں، لیکن اَحکام بدوں اقرار کے جاری نہ ہوں گے۔ اسی کو کسی نے ’’شرط‘‘ کہہ دیا کسی نے ’’شطر‘‘۔ ولا مشاحۃ في الاصطلاح۔
تحقیق اعمال کے شرط و شطر ہونے کی: اور ’’عمل‘‘ میں گفتگو یہ ہے کہ یہ ایمان میں داخل ہے یا خارج؟ اس میں بھی نظرِ تحقیق سے اختلاف لفظی ہے، کیوںکہ جنھوں نے داخل کہا ہے اس کے وہ بھی قائل ہیں کہ اعمالِ صالحہ کے ترک کردینے سے ایمان سلب نہیں ہوتا، پس معلوم ہوا کہ جنھوں نے داخل کہا ہے انھوں نے ایمان سے مراد ایمانِ کامل یعنی مقرون بالاعمال لیا ہے، اور جنھوں نے خارج کہا ہے انھوںنے نفسِ تصدیق مراد لی ہے۔ پس ایمان کے دو معنی ہوئے: ایمان بالمعنی الاوّل دخول فی النار سے نجات دِلانے والا ہے، اور ایمان بالمعنی الثانی خلود فی النار سے بچانے والا ہے۔
تحقیق زیادت و نقصانِ ایمان: ایمان زائد یا ناقص ہوتا ہے یا نہیں؟ حقیقت میں یہ اختلاف
بھی لفظی ہے، کیوںکہ ایمانِ کامل مقرون بالعمل تو اعمال کی کمی و زیادتی سے زائد و ناقص ہوتا ہے، اور نفسِ تصدیق چوںکہ کیفیات سے ہے اور زیادت و نقصان کمیات میں ہوتا ہے وہ زائد ناقص نہیں ہوتی، البتہ زیادت و نقصان کبھی شدت و ضعف پر بولا جاتا ہے۔ اسی معنی کے اعتبار سے تصدیق میں بھی کمی زیادتی ہوتی ہے، قرآنِ مجید میں جو زیادت کا لفظ عام ہے البتہ اہلِ اصطلاح کے نزدیک شدت و زیادت میں تباین ہے، فارتفع الإشکال۔
تلاوتِ قرآنِ مجید: ارشاد فرمایا رسول اللہﷺ نے: ’’قرآنِ مجید پڑھا کرو، پس بے شک وہ قیامت کے دن آئے گا شفاعت کرتا ہوا اپنے پڑھنے والوں کے لیے‘‘۔1