’’غصہ مت کیا کرو‘‘۔3
اور غصہ روکنا گو اس وقت شاق معلوم ہوتا ہے مگر ہمیشہ کا انجام نیک ہوتا ہے کہ دُشمن بھی دوست بن جاتے ہیں۔ قال اللّٰہ تعالٰی:
{اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌO}4 الآیۃ۔
اور فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ ’’پہلوان وہ نہیں جو دوسروںکو ۔ُکشتی میں گرا دے، بلکہ بڑا پہلوان وہ ہے کہ جو غصے کے وقت اپنے کو قابو میں رکھے‘‘۔5
گویا شیخ سعدی ؒ نے اسی حدیث کا ترجمہ فرمایا ہے:
نہ مرد است آں بہ نزدیک خرد مند
کہ باپیلِ ماں پیکار جوید
بلے مرد آنکس از روئے تحقیق
کہ چوں خشم آیدش باطل نگوید6
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ ’’جو شخص روکے اپنے غصے کو، روک لیں گے اللہ تعالیٰ اس سے اپنا عذاب قیامت کے دن‘‘۔1
مولانا رُوم ؒ نے اسی قسم کا مضمون ارشاد فرمایا ہے:
گفت عیسیٰ را یکے ہشیار سر
چیست در ہستی ز جملہ صعب تر
گفت اے جاں صعب تر خشمِ خدا