ترک کرنا بدخواہی کا: فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ ’’جس شخص نے بدخواہی کی وہ مجھ سے علیحدہ رہے‘‘۔1 اور فرمایا رسول اللہﷺ نے: ’’دین خیر خواہی و خلوص کا نام ہے‘‘۔
اگر بدخواہی میں بدگمانی بھی آگئی وہ بھی حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّز اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ}2
اے ایمان والو! بچا کرو بہت سے گمان سے، بے شک بعض گمان گناہ ہوتا ہے۔
اور فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ ’’گمان سے اپنے کو بچاؤ، پس بے شک گمان کرنا سب سے بڑھ کر جھوٹ ہے‘‘۔3
بدگمانی کی برائی اور چغل خوری کے ساتھ برتاؤ: آج کل من جملہ اسبابِ نا اتفاقی وپریشانی کے ایک سببِ قوی بدگمانی ہے کہ قرائنِ ضعیفہ محتملہ یا اخبارِ کاذبہ کی بنیاد پر دوسرے مسلمان بھائی پر بدگمانی کر بیٹھتے ہیں، اس کے بعد معمولی قرائن کی تائید و تقویت کرتے جاتے ہیں، حتیٰ کہ وہ بدگمانی درجۂ یقین تک پہنچ جاتی ہے، اس سے یہ آفتیں پیدا ہوتی ہیں:
حقیر سمجھنا دوسرے کو، اس سے بغض و عداوت کرنا، اس کے افعالِ حسنہ کو محمول کرنا کسی نفسانی غرض پر، اس کی غیبت کرنا، اس کے نقصان و ذ۔ّلت پر خوش ہونا اور طرح طرح کی خرابیاں اس پر مرتب ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قوی قرائن کے ہوتے بھی حتی الامکان بدگمانی نہ کرے، بلکہ کچھ تاویل کرکے اس کو اپنے دِل سے رفع کرے۔ اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے ایک شخص کو بہ چشمِ خود چوری کرتے ہوئے دیکھ کر ٹوکا، اس نے خدا کی
قسم کھا کر کہا کہ میں چوری نہیں کرتا ہوں، آپ فرماتے ہیں:
میرے خدا کا نام سچا ہے، میری آنکھ جھوٹی ہے۔
البتہ اگر دفع کرنے پربھی دِل سے رفع نہ ہو تو اس پر مواخذہ نہیں، مگر اس کا ذکر کرنا، اس کے مقتضا کے موافق برتاؤ کرنا یہ ضرور گناہ ہے، خصوصاً چغل خوری کی وجہ سے بدگمان ہوجانا۔ سیدھا علاج چغل خور کا یہ ہے کہ اوّل تو منع کردے کہ ہم سے کسی کی بات مت کہا کرو، اور جو وہ نہ مانے تو چغل خوری کے ساتھ چغل خور کا ہاتھ پکڑ کر اس شخص سے مواجہ کرادے جس شخص کی چغلی کھائی ہے، غالباً یا تو یہ چغل خور جھوٹا نکلے گا اور پھر کبھی چغلی نہ کھائے گا، اور اگر سچا نکلا تو وہ شخص