معاملہ(۷): مفت خواری سے یہ بہتر ہے کہ عالی ہمتی سے کمائے اور دوسروں کی خدمت کرے۔
البتہ جو لوگ دین میں مشغول ہیں کہ اگر طریق معیشت کو اختیار کریں وہ دینی کام برباد ہوجاوے ایسے لوگوں کو ترک اسباب جائز بلکہ بعض اوقات اولیٰ ہے۔ ان کی خدمت عام مسلمانوں کے ذمہ ہے۔
معاملہ(۸): جس چیز میں طبیعت صاف نہ ہو دل کھٹکتا ہو وہ چھوڑ دینے کے قابل ہے۔
معاملہ(۹):جس پیشے میں ہر وقت نجاسات کے ساتھ تلبس رہتا ہو جیسے بھنگی کا کام کرنا، پچھنے لگانا، ایسے پیشے اور کمائی سے بچنا چاہئے۔
معاملہ(۱۰):جو چیز گناہ کا آلہ بنائی جاوے اس کو مت بیچو۔
معاملہ(۱۱): ہمارے زمانہ میں روپیہ پیسہ بڑے کام کی چیز ہے اس کی قدر کرنا چاہئے۔ اور وجہ حلال سے کمانے میں عار نہ کرے۔ گو عرف میں نام دھرا جاوے۔
معاملہ(۱۲):جس طریقے سے آدمی کی بسر ہوتی ہو بلا ضرورت شدیدہ اس کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار نہ کرے۔
معاملہ(۱۳):خریدو فروخت اور اپنے حق کے مطالبہ کے وقت نرمی برتے، تنگ گیری اچھی نہیں۔
معاملہ(۱۴): سودا بیچنے کے لئے بہت قسمیں مت کھاؤ۔ اس میں ایک آدھ جھوٹ بھی نکل جاتا ہے۔ پھر برکت مٹ جاتی ہے۔
--------------
{۷} ان اطیب ما اکلتم من کسبکم وان اولادکم من کسبکم۱۲ ترمذی۔ للفقراء الذین احصروا في سبیل اﷲ لا یستطیعون ضربا في الأرض، الآیۃ {۸} الاثم ما حاک في النفس وتردد فی الصدر و ان افتاک الناس۱۲ احمد {۹} عن محیصۃ انہ استأذن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فی اجرۃ الحجام فنہاہ فلم یزل یستأذنہ حتی قال اعلفہ ناضحک واطعمہ رقیقک۱۲مالک {۱۰} لا تبیعوا القینات ولا تشتروہن ولاتعلموہن و ثمنہن حرام۱۲ احمد وترمذی {۱۱} کانت لمقدام بن معدیکرب جاریۃ تبیع اللبن ویقبض المقدام ثمنہ فقیل لہ سبحان اﷲ ا تبیع اللبن وتقبض الثمن؟ فقال نعم وما بأس بذلک سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم لیأتین علی الناس زمان لاینفع فیہ الا الدینار والدرہم۱۲ احمد {۱۲} اذا سبب اﷲ لاحدکم رزقا من وجہ فلا یدعہ حتی یتغیر لہ او یتنکر لہ۱۲ حمد {۱۳} رحم اﷲ تعالی رجلا سمحاً اذا باع و اذا اشتری واذا اقتضی۱۲ بخاری {۱۴} ایاکم وکثرۃ الحلف فی البیع فانہ ینفق ثم یمحق۱۲ بخاری