موت سے پہلے کبھی خدائے تعالیٰ کو نہ دیکھو گے۔ دوسری حدیث میں ہے:
حجابہ النور لو کشفہ لاحرقت سبحات وجہہ ماانتہی الیہ بصرہ من خلقہ (رواہ مسلم)
( اس کا حجاب نور ہے اگر اسے اٹھاوے تو اس کے انوار ذاتیہ مد البصرتک خلقت کو جلادیں یعنی کل خلقت کو)
اب قرآن وحدیث کے بعد اور کون چیز ہے جس پر یقین آوے۔ قال اﷲ تعالیٰ: فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہ‘ یُؤْمِنُوْنَ (اب اس کے بعد کس بات پر ایمان لاویں گے) اب عارفین کا کلام سنئے کیا فرماتے ہیں۔ مصباح الہدایہ میں ہے:
رؤیت عیاں درجہان متعذر است چہ باقی در فانی نہ گنجد اما در آخرت مؤمناں را موعود است وکافراں را ممنوع(جواہر غیبی)
کشف الآثار میں ہے:
روزے در مجلس جناب ارشاد مآب قبلۂ کونین غوث الثقلین شیخ محی الدین ابو محمد سید عبد القادرجیلانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وارضاہ مذکور شد کہ فلاں مرید آنجناب میگوید کہ من جناب حق سبحانہ وتعالیٰ را بچشم سر می بینم۔ آنحضرت او را بحضور خود خواند وپرسیدند، اعتراف نمود، پس آنجناب او را ازیں قول منع فرمودند وعہد گرفتند کہ بار دیگر ایں چنین نگوید۔ حاضراں سوال کر دند کہ ایں مرد محق است یا مبطل؟ فرمودند: محق است، لیکن امر بر وے ملتبس گشتہ ، و وجہش آنست کہ وے بچشم سر نو جمال را دید درہماں وقت از بصیرت کہ رؤیت قلبی است سوراخی بطرف بصر او پیدا گشت وشعاع بصرش منور شد، حق تعالیٰ متصل شد۔ پس آنچہ بصیرتش مشاہدہ کرد مظنونِ او شد کہ بصر من دیدہ است وفرق نکرد کہ ایں جا دو رؤیت است۔(جواہر غیبی)
حضرت شیخ قوام الدین کا ارشاد ہے:
مکاشفہ نہ آنست کہ رؤیت حق سبحانہ وتعالیٰ ادراک کنند ویا دریابند ہرچہ خواہی نام نہ رؤیت قلبی را خواہ رؤیت بصیرت گو خواہ مکاشفہ، خواہ مشاہدہ باصطلاح صوفیہ رؤیت قلبی است نہ رؤیت عیانی کہ بحاسۂ بصر تعلق دارد۔(جواہر غیبی)