بیان کیا گیا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس واضح اور صریح روایت کے ہوتے ہوئے دورِ فاروقی میں جمہور صحابہ کرام رِضوان اللہ علیہم اجمعین نے 8 رکعات تَراویح کی روایت کو ترک کرکے بیس رکعت کو کیوں اختیار کیا ،اور ایسا اِتفاق کہ کسی ایک بھی صحابی کا اُس میں کوئی اختلاف منقول نہیں ،پھر یہی نہیں بلکہ تابعین ، تبعِ تابعین ،فقہاء اور ائمہ مجتہدین میں سے کسی کو بھی حضرت عائشہ صدیقہکی اس واضح اور صریح روایت پر عمل کرنے کا خیال نہیں آیا ۔۔؟؟ کیا تمام صحابہ و تابعین و تبعِ تابعین اور جمہور فقہاء و محدّثین سب ہی(نعوذ باللہ) حدیثِ صریح کی مُخالفت کرنے والے اور دین کی مَن مانی تشریح کرنے والے تھے۔۔؟؟ جن لوگوں کے ذریعہ دین ہم تک پہنچا کیا وہ خود ہی(العیاذ باللہ) اُس پر عمل پیرا نہیں تھے۔۔؟؟
٭(1)ـــدوسری دلیل اور اُس کا جواب:
”عَنْ عِيسَى ابْنِ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ:صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ فَلَمَّا كَانَتِ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ فَلَمْ نَزَلْ فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا ثُمَّ دَخَلْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْتَمَعْنَا الْبَارِحَةَ فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ تُصَلِّيَ بِنَا فَقَالَ:إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ“۔(طبرانی صغیر:525)
حضرت جابرفرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺرمضان کے مہینے میں ہمیں8 رکعات اور وتر پڑھائی،جب اگلی رات آئی تو ہم مسجد میں جمع ہوئے اور آپ کے نکلنے کی اُمید