﴿دوسرا مسئلہ﴾―☼☼☼ترک رفع یدین☼☼☼―
جس طرح نماز کی ابتداء میں تکبیرِ تحریمہ کہتےوقت ہاتھوں کو کانوں تک اُٹھانا ایک متفق علیہ اور مسلّمہ مسئلہ ہے ،اِسی طرح سجدہ میں جاتے ہوئے یا سجدہ سے سر اُٹھاتے ہوئے رفعِ یدین کا منسوخ ہونابھی ایک متفق علیہ معاملہ ہے جس پر روایاتِ صحیحہ(جن کی تفصیل آگے آرہی ہے)کے ہوتے ہوئے بھی جمہور علماء کرام اور ائمہ اربعہ میں سے کسی کا بھی عمل نہیں،تاہم رکوع میں جاتے ہوئے یا رکوع سے سر اُٹھاتے ہوئےرفعِ یدین کے منسوخ ہونےیعنی کرنے نہ کرنے کے بارے میں اختلافِ روایات کی وجہ سے دو رائے ہیں ،ائمہ اربعہ میں سے دو بڑے اِمام یعنی سراج الأئمہ حضرت اِمام اعظم ابوحنیفہ اور اِمام مالک کے نزدیک رفعِ یدین نہیں کیا جائے گا ،اور بہت سے جلیل القدر صحابہ کرام حتی کہ خلفاءِ راشدین اور کبار تابعین اور فقہاء عظام کا بھی یہی مسلَک ہے، یہی وجہ ہے کہ اِس قدر کثرت سےصحابہ کرام ،تابعین اور فقہاء کرام نے اِس کو اختیار کیا ہے کہ ترکِ رفع یدین کی احادیث کو عملاً متواتر کا درجہ حاصل ہے۔عالَمِ اِسلام کے دو بڑے مرکز یعنی مدینہ منوّرہ اور کوفہ کےتقریباً تمام فقہاء و محدّثین بغیر کسی اِستثناء کے ترکِ رفع پر ہی عمل کرتے رہے ہیں ، پس ایسے میں رفع یدین کی روایات کومنسوخ نہ ماننا اور اُس پر عمل نہ کرنے والوں کی نماز کو ناقص اور ادھورا سمجھنا (جیساکہ بعض ناعاقبت اندیش کرتے ہیں)حق کو چھپانے اور اُس پر پردہ ڈالنے کے سواکچھ نہیں ۔ ذیل میں اِسی حقیقت کو واضح اور بے غبار کرنے کیلئے قرآن و