ہے۔اِن افکار میں تجدید و ترقی ہوتی رہی،تا آں کہ کانٹ کے Transcendental idealismنظریہ کے بعد ہیگل نے اِنہی موضوعات کو بنیاد بناکر علم کلام وضع کر د یا جس کو Dilectic method کا نام دیا گیا ۔اس کا مرکزی فارمولا یہ تھا کہ تحقیق کے بعد مضاد تحقیق کا ظہور ہو تا ہے اور اُس کے نتیجہ میں تعمیر ہو تی ہے ۔پھر یہ فلسفہ ،ثنویت کا شکار ہو گیا،اور اِسے’’ فطرت‘‘اور ’’انسان‘‘دونوں میں اُلوہیت نظر آنے لگی۔یہ ثنویت ڈیکارٹ کی ثنویت سے علحدہ ہے۔
لیکن ذہنی احساسات( Subjective feeling )کا یہ سلسلہ جو قوانین فطرت کے سائنسی طریقۂ کار کے رد عمل کے طور پر وجود پذیر ہوا، ثنویت سے قطع نظرکوئی ایسا نیافلسفہ نہیں تھا جو اچانک پیدا ہو گیا ہو؛بلکہ ۱۸ ویں صدی عیسوی کے وسط سے(۱۸۳۶ء سے) ہی مسلسل اِس کا سلسلہ جا ر ی چلا آر ہا ہے۔،دوسری طرف اِسے محض ذہنی و خیالی ،عیش پسندی اور ہوا وہوس کی پیروی (کہ اِس فلسفہ سے وابستہ لوگ ایسے ہی ہیں)کہہ کرنظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا ہے؛کیوں کہ اس کی ہم آہنگی ادب، لٹریچر،فنونِ لطیفہ کے ساتھ بھی قائم ہے،اور صحیفۂ فطرت سے حاصل ہونے والے حقائق کوسائنسی طریقۂ کار کے تحت عبور کر کے
------------------------------
حاشیہ(۱)یہ عندیہ قسم کا سوفسطائی ادب ہے جس میں حقیقت پسندی ہی غائب ہے؛بالکل ایسے ہی جیسے ’’وجودیت‘‘کے فلسفہ میں ہر چیز کا وجود ثابت ہے سوائے خدائے تعالی کے وجود کے۔
،وہ یہاں تک پہنچا ہے۔اور اب اِس کے اثرات معاشرہ میں جدید رجحانات رکھنے وا لے سائنس اور علوم جدیدہ کے معتقد ہر طبقے میں پائے جا تے ہیں۔ غیروں کی بات جانے دیجئے ،عام مسلمانوں کا بھی ذکر نہیں ،اہل علم جو ادب او ر لٹریچر سے شیفتگی رکھتے ہیں،اُن کے خیالات میں اِن مذکورہ فلسفیوں کے افکارکے اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ یہ ذہنی احساس (Subjective feeling)سے وابستہ ادب ہے۔ لیکن اِس کے بالمقابل معروضی ادب کو جن لوگوں نے ترجیح دی تو ایسا نہیں ہے کہ Subjective feelingسے،انہوں نے خود کو محفوظ رکھا ہو؛بلکہ حیرت انگیز طور پر غضب یہ ہوا کہ اہل علم و اہل قلم کے خیالات میں اور اُن کی تحریروں میں اِس کے اُس رنگ کو محفوظ رکھ لیا گیا ہے جس سے مذ۔ہبی عقائد و احکام کی طرف سے بے التفاتی تو ہو؛لیکن افادی ،اجتماعی اور فرد کے دنیوی خوشحالی ا ورآخرت سے بے فکری و بے زاری والے رجحانات متاثر نہ ہوں؛بلکہ انہیں تقویت ملے۔
معروضی مطالعہ کی ترجیح-ایک لمحۂ فکریہ
افسوس ہے کہ مذکورہ فلسفیوں کے جو افکار تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور معاشرے کو مسموم کیے ہوئے ہیں،غیر شعوری طور پر اِن کی اُس فکرا ور زائغانہ اصول کو جو کہ یونانی سوفسطائیوں کے خیالات اور اہداف سے مستنبط ہیں ،اُن لوگوں نے قبول کر لیاہے جو فلسفہ اور معقول کی مخالفت کرتے ہو ئے نہیں تھکتے۔یہ بات بڑی سخت ہے،کیوں کر کہہ دیا جا ئے کہ یہ لوگ جس چیز کی مخالفت کر رہے ہیں،اُس کی حقیقت سے واقف نہیں۔اگرمعا ملہ ایسا ہی ہے ،تو فلسفہ کے باب میں ان کی باتوں کی حیثیت تقبیح ناشناس کی سی ہے۔اورستم یہ کہ یہ، جن جدید فلسفیوں کے خیالات کو ہضم اور جذب کیے ہو ئے ہیں،اُن کے بھی مفاسد سے واقف نہیں ۔اِس سارے بگاڑ کا حل ہم آئندہ پیش کریں گے ،البتہ؛خلاصہ۴ سطر میں یہیں درج کیے دیتے ہیں: خلاصہ یہ ہے کہ بدلتے حالات میں مدارس کی ترجیحات کے حوالہ سے کلیدی حیثیت اِس امر کو حاصل ہے کہ بلا کمی و بیشی کے، اُسی نصاب درس کو تعلیم میں نافذ کر دیا جائے جسے حضرت نانوتویؒ نے جاری کیا تھا۔میڈیکل سائنس کے تمام مسائل کے حل کا اصول اس میں مل جائے گا ؛کیوں کہ طب کی کتابیں شرح الموجز،نفیسی اُس میں شاملِ درس ہیں۔جدید سائیکالوجی اور سائکیٹری کی شریعت کے ساتھ مزاحمت کے جواب کا اصول اس میں مل جائے گا ؛کیوں کہ نفسیات اور معالجۂ نفسی کے مبادی و مسائل اجمالی طور پر اُس میں داخل ہیں۔قوانین فطرت کے التباسات واُغلوطات کے جواب کا اصول بھی اُسی میں مل جائے گا،دور حاضر میںسائنس و فلسفہ اور ہیئت کے جتنے مسائل شریعت سے مزاحمت کرتے ہیں،اُن سب کے ازالہ کے لیے وہی اصول کافی ہیں جو داخلِ درس کتابوں میں موجود ہیں۔
این المفر =منطق سے فرارممکن نہیں