’’جب یہ بات ثابت ہو چکی ،تو اب اِس ناقص الفہم کی ایک اور بھی گزارش ہے۔بہ غور سنئے:جنابِ من !ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز کسی کے حق میں خدا نے
حاشیہ:(۱)اِس کا تعلق ص ۶۸ پر بیان کردہ تعبیر سے ہے ،کہ ہو سکتا ہے کہ’’تمام عالم کا نقشہ بھی خدا کے سببِ قدیم سے ایک پنہاں وجود رکھتا ہو، اور وجودِ اصلی ہو،مثل اِس ظا ہری وجود کے عارضی نہ ہو۔ ویسا اصلی بھی نہ ہو،جیسا خدا وندِ کریم کا وجود اور اُس نقشے ہی کے مطابق اِس وجودِ ظا ہری کا کا رخانہ بر قرار ہو تا ہو۔ .....اور عقل اُس وجودِ پنہا نی کی مو جودات کو ایسے دریافت کرتی ہو،جیسے حواسِ ظا ہری آنکھ، ناک اِس وجودِ ظا ہری کو۔اِس تعلق کے بتلانے میں راز یہ معلوم ہو تا ہے کہ حضرت نے آگے ص۱۴۶ پر یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ ہر شے کی بھلائی برا ئی ازلی ہے۔
اول سے نافع پیدا کی ہے،وہ اُس کی دعوتِ(رغبتِ)طبع ہو تی ہے اور کسی سببِ خارجی سے اُس سے متنفر ہو جا ئے،تو اُس کا اِعتبار نہیں۔اِسی طرح جو چیز کسی کے لئے خدائے علیم نے موجبِ نقصان بنا ئی ہے،اُس سے بالطبع نفرت ہوا کرتی ہے۔ اور کسی عارضے کے باعث اُس طرف کو رغبت ہو،تو وہ قابلِ اعتبار نہیں۔ (۱)مثلاً:
رغبت کی مثال:
روٹی، پانی انسان ( کے حق میں۔ف)اور سوا اُس کے اور(دیگر۔ف)حیوانات کے حق میں نافع ہیں۔بدن کا قیام اور بقائے قوت اور اِستطاعتِ عمل اِسی(روٹی، پانی ۔ف)پر منحصر ہے،تو دیکھئے کہ کس قدر اِس(روٹی، پانی۔ف)کی رغبت ہے!اور بخار ،یا اور بیماری کے باعث اِن سے نفرت ہو جا ئے،تو اِس(عارضی نفرت۔ف)سے رغبتِ اصلی زائل نہ ہو جائے گی۔
نفر ت کی مثال:
اسی طرح پھو ڑے،دُنبل کی کلن اور خارش کی نوچ میں اگرکسی کا اپنے بدن کا تراشنے اور کھال کے نوچنے کو بے اختیار جی چا ہے،تو اس سے نفرتِ اصلی اور تکلیفِ ذاتی -جو بہ سبب اس مرض کے،ضررِ بدن اور نقصانِ تن کے، اِن دونوں سے، ہر کسی کو ہے-جاتی نہ رہے گی؛بلکہ اطباء اِس رغبتِ بے محل اور نفرتِ بے موقع کو بھی مثل بخار،دردِ سر وغیرہ کے ایک مرضِ جدا گا نہ سمجھ کر،تا مقدور اُس کے زوال کے خیال میں رہتے ہیں۔‘‘
اصولِ فطرت کی حقیقت اور عقلِ سلیم
’’اِس تقریر سے مثل طبِ بدنی کے ایک طب ر وحا نی کا بھی پتہ ملا۔عجب نہیں کہ دینِ حق بے شرح و بسط قواعدِ طب روحانی ہی کو کہتے ہوں۔کیوں کہ حاکمِ علی الاطلاق خدا ئے بے نیاز کی حکومت کے سا منے گو عقلِ بے مقدار کا یہ حوصلہ نہیں کہ چوں و چرا کرے،کیوں کہ عقل کی حکومت اپنے ما تحت پر ہے۔خدا ئے وا لا شان کے سامنے عقل کا اِس سے زیادہ مرتبہ نہیں کہ جیسے قاضی،مفتی بادشاہ کے بنا ئے ہو ئے حاکم ہو تے ہیں،یہ بھی ایک بنائی ہو ئی حاکم ہے۔پر اُس کی متانت اور دا نائی سے یہ بعید ہے کہ عقل کو اپنی طرف سے اپنی مخلوقات پر حاکم بنا ئے اور ہا باب میں قوانینِ حکم را نی عطا فر ما ئے۔(مگر)جب وہ کسی قضیے پر اُن قوانین کے موا فق حکم لگا ئے،تو اُس کے خلاف اور کسی کے ہاتھ کہلا بھجوا ئے۔(ایسا نہیں ہو سکتا،بلکہ؛۔ف ) اِس صورت میں بے شک اگر خدا کی طرف سے کو ئی حکم آتا ہو گا،تو اُسی کے کرنے نہ کرنے کا آتا ہو گا کہ جسے عقلِ صائب اور ذہنِ ثاقب،نافع یا مضر بتلا ئے اور اُس کے کرنے نہ کرنے کی سجھا ئے؛بلکہ غور سے دیکھیے توعقل ِایک جامِ جہاں نمایا دور بیں،خورد بین ہے کہ اُس سے ہر شے کی حقیقتِ اصلی اور فرقِ مراتب اُن کا، معلوم ہو تا ہے۔اور ہر عمل کی ماہیت اور اصل کو واشگاف کر کے بتلا دیتی ہے۔(اور جب عقل کی حیثیت خدا ئے تعا لی کے مقرر کردہ حاکم کی ہے،تو۔ف)اِس صورت میں عقل کچھ اپنی طرف سے حکم نہیں کرتی؛بلکہ ہر کسی (شی۔ف)کی پیشا نی پر تجویزِ خدا وندی اور حکمِ الٰہی،یعنی نا فع ہو نا،یا مضر ہو نا،جو اُس شی کی نسبت لکھا ہوا ہے،لکھا دیکھ کر اطلاع کر دیتی ہے۔‘‘
کامل العقل کی اہمیت اور ضرورت
’’پر ہر عقل کو نہ یہ صفائی ہے کہ ہر بھلا برا جدا جدا کر دے،اور نہ رسا ئی ہے کہ دور و نزدیک کی باتوں کی خبر دے۔اِس جگہ عقلِ کامل چا ہئے۔طبِ بدنی