مستعمل ہوتا ہے۔
[۳]اسمِ فاعل: .6وہ اسم ہے جو مصدر سے نکلے اور ایسی ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ معنیٔ مصدری بطور حدوث (تینوں زمانوں میں سے ایک زمانہ میں ) قائم ہو ،
.6 یہ بھی اپنے فعل کا عمل کرتا ہے، یعنی ’’لازم‘‘ ہونے کی صورت میں فاعل کو رفع، اور مفعول مطلق، مفعول لہ، مفعول معہ، مفعول فیہ، حال، تمیز اور مستثنیٰ کو نصب دیتا ہے۔
اور ’’متعدی‘‘ ہونے کی صورت میں فاعل کو رفع اور مفعول بہ، مفعول مطلق، مفعول لہ، مفعول معہ، مفعول فیہ، حال، تمیز اور مستثنیٰ کو نصب دیتا ہے، جیسے: زَیدٌ ضَارِبٌ غلامُہٗ الآنَ اوْ غداً۔
فائدہ: اسمِ فاعل اکثر مضاف ہوکر مستعمل ہوتا ہے، جیسے: ضَارِبُ زَیْدٍ۔
[۴]اسمِ مفعول:.6 .6وہ اسم ہے جو مصدر سے نکلے اور ایسی ذات پر دلالت کرے جس پر فعل واقع ہوا ہے۔
.6 .6یہ اپنے فعلِ مجہول کا عمل کرتا ہے، یعنی نائب فاعل کو رفع، اور مفعول مطلق، مفعول لہ، مفعول معہ، مفعول فیہ، حال، تمیز اور مستثنیٰ کو نصب دیتا ہے، جیسے: زَیدٌ مَضروبٌ غلامُہٗ الآنَ اوْ غداً۔
[۵]صفتِ مشبہ: .6 وہ اسم ہے جو مصدر سے نکلے اور ایسی ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ معنیٔ مصدری بطور ثبوت (تینوں زمانوں سے قطع نظر)