میں سے کیاہے؟ اور اگر جملہ فعلیہ ہے تو اُس فعل کا صیغہ معلوم کرنے کے بعد اُس کے فاعل، مفعول بہ، مفعول مطلق وغیرہ کو معلوم کریں ۔ یہ تمرین سونے پر سُہاگہ کا کام دے گی۔
(۴) چوتھا مرحلہ: اب تو صرف آخری ایک منزل رہ گئی ہے، کہ اب جملہ بن گیا ہے، اُس کے ہر کلمے کی بناوٹ اور جملے کے اجزاء کی ترکیبی حیثیت سامنے آگئی ہے، تو اخیر میں اُس جملے کے تمام اجزاء کو جوڑ لیں ، اور یہ بتائیں کہ یہ جملے کی کونسی قسم ہے؟کیا یہ جملہ اسمیہ ہے یافعلیہ؟ شرط وجزاء، ندا ومنادیٰ وغیرہ میں سے کیا ہے؟ اور اس کا محل اعراب کیا ہے؟۔
پورا اسلوب وطریقہ تو مکمل کتاب اور بالخصوص کتاب میں ذکر کردہ ’’اجراء کیسے کریں ، اجراء کی دل چسپ مثال‘‘ کو جب ملاحظہ فرمالیں گے تو إنْ شَائَ اللّٰہُ اچھی طرح سمجھ میں آجائے گا۔
قارئین سے گذارش ہے کہ اجراء کے تعلق سے کوئی مفید مشورہ ہو تو ضرور اس سے باخبر کریں گے، تاکہ اس پر غور کرکے آئندہ اس کو شامل اشاعت کیاجاسکے۔
میں جملہ معاونین کا ممنون و مشکور ہوں جنھوں نے بندہ کا کسی بھی طرح کا تعاون کیا، اللہ رب العزت ہم تمام کے لیے دارین کی سعادت مقدر فرمائے، اور اس سعیٔ حقیر کو ہم تمام کے لیے علوم میں ترقی کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)
اللّٰہمّ تقبّلْہا بقبولٍ حسنٍ وأنبتْہا نباتاً حسناً۔
محمد الیاس گڈھوی
(مُدرِّس مدرسہ دعوۃ الایمان مانک پور ٹکولی)
مؤرخہ: ۲۳؍رمضان المبارک ۱۴۲۹ھ