ﷺ کو (مکمل) اختیار کرلیا ۔(تفسیر الطبری (۴۲۸)
امام بغوی رحمہ اللہ معالم التنزیل میں لکھتے ہیں کہ آیت کریمہ میں جن حضرات کا ذکر ہے ان سے مراد انصار ہیں جنھوں نے مدینہ کو اپنا وطن بنایا، جوکہ دارِ ہجرت اوردارِ ایمان ہے۔ مفسر بیضاوی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : مدینہ کو ایمان اس لئے کہاگیا کیونکہ یہ شہر ایمان کا مظہر ہے ، اور ایمان کو اسی کی طرف لوٹ کرآنا ہے ۔(معالم التنزیل)
فضیلت نمبر۴
مدینہ کا نام ِ نامی قرآن کریم میں
رسول اللہ ﷺ کی جائے ہجرت کا ذکر قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ‘‘مدینہ’’ کے نام سے وارد ہوا ہے ، جس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے یہاں بھی یہ مبارک شہر اس نام ِ نامی سے موسوم ہے،جن میں سے ایک آیت یہ ہے۔
{ مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ} [التوبة: 120]
حدیث ِ شریف میں بھی اس شہر کو ”مدینہ“ فرمایا گیا ہے ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي الناس كما يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ . (متفق علیه) - البخاری:(۱۸۷۱) باب فضل المدینة ، ومسلم کتاب الحج (۱۳۸۲)، باب المدینة تنفی شرارها