ارشاد فرمانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضى الله عنہ فرمایا کہ اے امیر المومنین اس سلسلے میں یہاں گفتگو نہ فرمائیں اور جب آپ مدینہ منورہ پہنچ جائیں تو وہاں جاکر اس سلسلہ کی گفتگو فرمائیں کیونکہ مدینہ دارِہجرت اور دارِ سنت اور دارِسلامتی ہے، وہاں آپ کو اہل تفقہ وسمجھدار ، اور شریف و عقلمند لوگ ملیں گے (جو آپ کی بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے) لہٰذا حضرت عمر رضى الله عنہ نے یہ رائے پسند فرمائی ا ور فرمایا کہ میں سب سے پہلے مدینہ جاکراس بارے میں گفتگو کرونگا۔
فضیلت نمبر۱۰8
نبی رحمت ﷺ کی سفارش اور گواہی ایسے شخص کیلئے جس نے مدینہ منورہ کے مصائب پر صبر کیا
عن یحنس مولی الزبیر أخبرہ أنه کان جالساً عند عبد اللہ بن عمر فی الفتنة فأتته مولاة له تسلم علیه فقالت :إنی أردت الخروج یا أبا عبد الرحمن اشتد علینا الزمان فقال لها عبد اللہ : اقعدی لکاع فإنی سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : لا یصبر علی لأوائها وشدتها أحد إلا کنت له شهیداً أو شفیعاً یوم القیامة ․ رواه مسلم ( رواہ مسلم : (رقم ۱۳۷۸)، کتاب الحج باب الترغیب فی سکنی المدینة والصبر علی لأوائها)