عرصے میں پانچ لاکھ انسانوں کو موت کی نیند سلانا، فلسطین، بیروت، افریقہ، افغانستان، عراق اور لبنان کی حالیہ تباہی کن کے ہاتھوں ہورہی ہے؟
قادیانیو! اپنے آقاؤں سے پوچھو، کہ اس وقت روس، امریکا اور دنیا بھر کی عیسائیت ویہودیت کون سے جہاد کے نام پر انسانیت کشی کا کارنامہ انجام دے رہی ہے؟ کیا جرمنی کے ہٹلر کی انسان کشی بھی جہاد کے نام پر تھی؟ اسی طرح ویت نام اور وسط ایشیا میں آدم دشمنی کس نے کی؟ کیا اس کو بھی اسلام اور اسلامی جہاد کا نتیجہ قرار دیا جائے گا؟
قادیانیو! اگر تمہارے اندر ذرہ بھر شرم وحیا کی رمق اور انسانیت سے خیرخواہی ہے تو ڈوب مرو اور جہاد کو مطعون کرنے کے بجائے اپنے آقاؤں سے کہو کہ وہ انسانیت کشی کے اس بدترین کھیل سے باز آجائیں۔
دیکھا جائے تو جہاد کا مقدس فریضہ ایسے ہی درندوں کو سبق سکھانے اور ان کی راہ روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ مگر چونکہ تمہارے آقاؤں نے کہا کہ یہ دہشت گردی ہے۔ اس لئے تم اور تمہارے باوا مرزاغلام احمد قادیانی اس کو حرام قرار دینے کے لئے گزشتہ سو سال سے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کرنے میں مصروف ہو۔
مگر میرے آقا کا فرمان ہے کہ: ’’الجہاد ماض الیٰ یوم القیامۃ (مجمع الزوائد ج۱ ص۱۱۱)‘‘ جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور اس کے ذریعہ مسلمان، عیسائیوں اور قادیانیوں کی راہ روکتے رہیں گے۔
عورت کی گواہی نصف کیوں؟
۷… ’’حضرت محمد نے مرد کے مقابلے میں عورت کی گواہی آدھی کیوں قرار دی ؟‘‘
جواب… یہ اعتراض بھی قادیانیوں کی دنائت، سفاہت، جہالت اور لاعلمی بلکہ ان کی کوڑھ مغزی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس لئے کہ مرد کے مقابلے میں عورت کی آدھی گواہی کا حکم، حضرت محمد مصطفیﷺ نے نہیں بلکہ خود اﷲتعالیٰ نے دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ حکم الٰہی ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: ’’واستشہدوا شہیدین من رجالکم، فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتٰن ممن ترضون من الشہدآء ان تضل احدہما فتذکر احدہما الأخریٰ (البقرۃ:۲۸۲)‘‘ {اور گواہ کرو دو شاہد اپنے مردوں میں سے، پھر اگر نہ ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے کہ جن کو تم پسند کرتے ہو۔ گواہوں میں تاکہ اگر بھول جائے ایک ان میں سے تو یاد دلادے اس کو وہ دوسری۔}