باب دوم
اباحت کے بیان میں
زیر بحث عنوان کے تحت اس تحریر کا مدعا یہ ہرگز نہیں ہے کہ راقم الحروف بھی اباحت کا قائل ہے یا تمباکو نوشی کے فروغ کے لیے تلقین کررہا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ تمباکو نوشی کے جواز کے قائلین کا موقف اپنے تمام تر استدلالات اور توضیحات کے ساتھ سامنے آجائے ، اور علمی بحث کا تقاضا بھی یہی ہے ، اس لیے یہاں پر ان بعض علماء کی تحریروں کی جھلکیاں پیش کروں گا جو تمباکو کی حرمت کے قائل نہیں ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ سبھی مکاتب فکر سے وابستہ کچھ علماء تمباکو کی اباحت کے قائل تھے یاہیں جس امر کا انکار کرنا حقائق سے چشم پوشی کے سوا کچھ نہیں ۔
علمائے احناف
علمائے احناف میں سے جن لوگوں نے سب سے زیادہ تمباکو نوشی کا دفاع کیا ہے ان میں سرفہرست عبد الغنی نابلسی (متوفی ۱۱۴۳ھ ) ہیں ، انہوں نے اپنی مختلف کتابوں المطالب الوفیۃ ، نہایۃ المراد فی شرح ھدیۃ ابن العماد اور الحدیقۃ الندیۃ فی شرح الطریقۃ المحمدیۃ ۔ میں اسکی حلت کے دلائل پیش کیے ہیں اور علماء سے مباحثے بھی کیے ہیں ، اور اس موضوع پر مستقل ایک کتاب ’’الصلح بین الإخوان فی حکم إباحۃ الدخان ‘‘ تحریر کی ہے ، جسے المکتبۃ السلفیۃ دمشق نے ۱۳۴۳ھ میں شائع کیا ہے لیکن یہ کتاب نایاب ہے ، ویسے بہت سے مصنفین نے نابلسی کے اقوال اپنی تصنیفات میں نقل کیے ہیں ۔