کا استعمال ممنوع قرار دیا تھا ۔
ہندو دھرم کی کتابوں میں صراحتاً تمباکو کی مذمت کی گئی ہے اورا سکے استعمال سے منع کیا گیا ہے ۔
پدم پران میں ہے کہ تمباکو کو بھول کر بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ اسکند پران میں ہے کہ برہمن چھتری اور ویشیہ جو تمباکو پیتے ہیں وہ چنڈال کے مانند ہیں ، اس میں مذکور ہے کہ پریاگ اور دوسری زیارت گاہوں پر نہانے سے کیا ہوتاہے ، اگر تمباکو نوشی نہیں چھوڑی تو سب برباد ہوجاتاہے ۔ سونا گائے زمین وغیرہ دان کرنا بغیر تمباکو نوشی ترک کیے بے کار اور بے سود ہے ۔براہما پران میں ہے کہ صرف تمباکو نوش ہی جہنم میں نہیں جائے گا ۔ بلکہ تمباکو نوش براہمن کو دان دینے والا بھی جہنم میں جائے گا ۔
یاگیہ ولکیہ سمرتی میں آٹھ قسم کی منشیات میں تمباکو کوبھی شامل کیا گیا ہے ۔
مذکورہ بالا سطور سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ دوسرے اہل مذاہب نے تمباکو کے نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اپنے مذہب میں اس کا استعمال ممنوع قرار دیا ہے ۔ لیکن اہل اسلام قرآن و حدیث میں اس کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی حلت یا حرمت پرمتفق نہ ہوسکے ۔
آگے علمائے اسلام کے مختلف نظریات نیز ان کی دلیلوں کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے مسئلے سے متعلق راجح اور صحیح موقف بیان کرنے کی کوشش کروں گا ۔ وماتوفیقی الا باللہ ۔
٭٭٭