صاحب رد المحتار نابلسی کا قول ایک جگہ نقل کرتے ہیں :
’’ فالذی ینبغی للانسان إذا سئل عنہ سواء کان ممن یتعاطاہ أولا ،کھذا العبد الضعیف وجمیع من فی بیتہ أن یقول : ھو مباح ، لکن رائحتہ تستکرھہا الطباع فھو مکروہ طبعاً لا شرعاً ‘‘ ۱؎
ترجمہ : ’’جس کسی شخص سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے خواہ اسے وہ استعمال کرتاہو یا نہیں جیسے یہ بندہ ٔ ضعیف اور اسکے جملہ اہل خانہ ۔ تو اس کو مباح کہنا چاہیے ، لیکن اس کی بو طبیعت کو ناگوار معلوم ہوتی ہے اس لیے وہ طبعاً مکروہ ہے نہ کہ شرعا ‘‘
صاحب تہذیب الفروق ابن حمد ون کے حوالہ سے عبد الغنی نابلسی کے قول کا خلاصہ یوں نقل کرتے ہیں :
’’ إنھا مما سکت عنہ المولیٰ فی کتابہ فھی مما عفا اللہ عنہ لحدیث الترمذی وابن ماجہ۔’’الحلال ما أحل اللہ فی کتابہ العزیز والحرام ما حرم اللہ فی کتابہ الکریم وما سکت عنہ من غیر نسیان رحمۃ بکم فھو مما عفا اللہ عنہ ‘‘
قال المناوی فی شرح قولہ : ’’ وما سکت عنہ ‘‘ أی لم ینص علی حلہ ولا حرمتہ نصاً جلیاً ولا خفیاً فھو مما عفی عنہ فیحل تناولہ مالم یرد النھی عنہ ‘‘۔۲؎
ترجمہ : ’’ تمباکو ان چیزوں میں سے ہے جن کے حکم کے بارے میں مولا اپنی کتاب میں خاموش ہے لہٰذا یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کا
------------------------------