تبصرہ ماہنامہ ’’اہلِ حدیث‘‘ شکراہ ضلع گوڑگاؤں
تمباکو یا کوئی بھی نشہ آور چیز انتقالِ خیال کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کے استعمال سے انسان کا فکری تسلسل ختم ہوجاتاہے اور انسان کچھ لمحات کے لیے ایک راحت محسوس کرتاہے۔
ایسے منشیات جن کے استعمال سے انسان دیر تک دنیا و مافیہا سے دور چلاجاتاہے، بالعموم نیند لاتے ہیں یا پھر دماغی وفکری لہروں میں ارتعاش پیدا کرکے انسان کو فضا میں تیرتا ہوا محسوس کراتے ہیں جس سے آدمی ایک خاص سروری کیفیت سے گزرتاہے تاہم تمباکو ایک ناپائیدار نشہ ہے، جو صرف انسانی دماغ میں ٹھوکر لگاتاہے اور اس کی فکری لہروں کو متاثر کرکے مختصر سکون دیتاہے۔
زیر نظر کتاب میں تمباکو کے مضر اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ تمباکو اور اس کا زہر نکوٹین انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔اس سے انسانی دل، دماغ، پھیپھڑے، آنتیں اور اعصاب سخت متاثر ہوتے ہیں جو بسااوقات السر و کینسر کا سبب بھی بن سکتے ہیں ۔ تمباکو کے مسلسل استعمال سے نزلہ، ضعف ِ اعصاب، نامردی اور لقوہ بھی ہوجاتے ہیں ۔
جناب مولانا حفظ الرحمن ندوی حفظہ اللہ نے فی الواقع اس کتاب کی ترتیب میں بڑی محنت کی ہے اور تمباکو کے شرعی ، معاشرتی ، اقتصادی تمام پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ تمباکو کا کمال یہ ہے کہ انسان اسے مضر صحت اور شرعاً مکروہ اور بعض علمائے کرام کے نزدیک حرام سمجھتے ہوئے بھی استعمال کرتاہے اور کوشش کے باوجود بھی نہیں چھوڑ پاتاہے اور کہتاہے کہ چھٹتاہی نہیں ہے اور تو اور حاجی صاحبان کے غول کے غول حرم شریف کے باہر نکل کر بیڑی یا سگریٹ میں دم لگاتے دکھائی دیتے ہیں ۔
اس کتاب کے مطالعہ سے تمباکونوشی کے عاملین وغیر عاملین تمام ہی استفادہ کرسکتے ہیں ۔ بالخصوص اس کے مضر اثرات بیان کرنے والوں کے لیے اس میں بھرپور مواد ہے۔
ماہنامہ ’’اہلِ حدیث‘‘ شمارہ اپریل ۲۰۰۴ء