تمباکو کی حرمت کا فتویٰ دینے والوں میں مکہ مکرمہ کے مالکی مفتی حسین بن علی الحسینی بھی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں :
’’ إن جمھور أجلاء المالکیۃ علی تحریم ھذہ الحشیشۃ الخبیثۃ ‘‘۔ ۱؎
ترجمہ : ’’ جمہور جلیل القدر مالکی علماء اس گندے پودے کی حرمت کے قائل ہیں ‘‘
شاذلی طریقت کے شیخ ابوالعباس احمد بن ناصر مرسی مالکی فرماتے ہیں :
’’اتفق علمـاء البـاطن ومحققو أھـل الظـاھـر علی تحریمھا ولا یدخل فی ھذہ الطریقۃ من یتعاطاھا إلا أن یتوب‘‘ ۲؎
ترجمہ : ’’ علمائے باطن اور اہل ظاہر کے محقق علماء اس کی حرمت پر متفق ہیں ، اس طریقت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جو اسے استعمال کرتا ہے مگر یہ کہ وہ توبہ کرے ‘‘
مذکورہ بالا سطور سے واشگاف ہوجاتاہے کہ جمہور علمائے مالکیہ تمباکو کی حرمت کے قائل تھے ۔
علمائے شافعیہ :
بعض شافعی علماء تمباکو کے نقصانات سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے اباحت کے قائل تھے ، جنکا تذکرہ اباحت کے بیان میں گزرچکا ہے ۔ لیکن بیشتر شافعی علماء تمباکو کی حرمت کے قائل تھے اور ان میں سے متعدد علماء نے تمباکو کی حرمت پر رسالے تالیف کیے ہیں ۔
محمد علی بن علان بکری صدیقی شافعی جو ریاض الصالحین کی شرح دلیل الفالحین
------------------------------