مرکز کے تحت ریاستوں کو حکم دیا ہے کہ اس معاملے میں فوراً ضروری ہدایات جاری کی جائیں ۔
امریکہ اور سنگاپور میں تو سڑکوں پر بھی تمباکو نوشی منع ہے ، ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں تمباکو نوشی میں ایک حد تک کمی واقع ہوئی ہے ، اور بیس سال کے عرصے میں تین کروڑ تمباکو نوش اپنی یہ عادت ترک کرچکے ہیں لیکن نوجوانوں میں تمباکو نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں عام طور سے بڑوں پر توجہ مرکوز ہے ، کم عمر اور نوجوانوں پر نہیں ۔
جاپان کی ایک کمپنی نے انسداد تمباکو نوشی کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کی ہے وہ یہ کہ کمپنی سے وابستہ جو ملازم تمباکو نوشی ترک کردے گا اسے ۷۷۰ ڈالر انعام سے نوازے گی ۔ جس کا اثر فوری طور پر ظاہر ہوا اور چند ماہ کے اندر کمپنی کے ۶۲ تمباکو نوشوں میں صرف ۲۵ ہی تمباکو نوشی کررہے تھے ۔
نیو چائنا ایجنسی کے حوالہ سے ایک خبر ہے کہ چین میں تمام عام جگہوں اور آفسوں میں تمباکو نوشی منع کردی جائے گی ۔ اور سگریٹ کی پیداوار اور اسکی خرید وفروخت پر کنٹرول کیا جائے گا ۔ اور دس سال کے اندر مکمل طور پر چین میں تمباکو نوشی ممنوع قرار دینے کا منصوبہ ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے مختلف امراض چین میں سب سے زیادہ موت کا سبب ہیں ۔
ایک رپورٹ کے مطابق اٹلی کی حکومت نے ایک قانون پاس کرکے اسپتالوں ، اسکولوں ، یونیور سٹیوں ، سینما ہالوں ، میوزیم اور ہوٹلوں وغیرہ میں تمباکو نوشی ممنوع قرار دے دیا ہے ۔ اور اس جدید قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو دو لاکھ لیرہ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا اور جو لوگ اپنے اداروں میں اس قانون کا لحاظ نہیں رکھیں گے انہیں پچاس لاکھ لیرہ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا ۔ جو ۲۲ ہزار فرنک کے مساوی ہے ، اتنے