بڑے جرمانہ کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں ۔
انسداد تمباکو نوشی کے میدان میں کامیاب ترین ملک سنگاپور ہے ۔ جہاں سب سے کم سگریٹ استعمال ہوتاہے ، یہاں قانون بھی سخت ہے ، سزائے موت ہو سکتی ہے ، بند جگہوں میں سگریٹ نوشی کا جرمانہ ۵۰۰ سنگاپوری ڈالر ہے ۔ ملک کے سارے ذرائع ابلاغ تمباکو نوشی کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں ۔ اس طرح لوگوں میں کچھ بیداری پیدا ہوئی ، اور قانون کا احترام بھی ، اندازہ یہ ہے کہ آئندہ چل کر سنگاپور میں تمباکو پر مکمل طور پر پابندی لگادی جائے گی ۔
اب تمباکو نوشی پر کنٹرول کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں ، تمباکو نوشی او رصحت کے بارے میں ایک عالمی کانفرنس کا بھی اہتمام کیا جاتاہے ، اور تمباکو نوشی نہ کرنے کا دن ہر سال ۳۱ مئی کو عالمی صحت تنظیم کی سرپرستی میں منایا جاتاہے ۔
خواتین کے ایک گروپ نے تمباکو نوشی کے خلاف خواتین کا بین اقوامی نظام تشکیل دیا ہے تاکہ خواتین کو تمباکو فروخت کرنے پر روک لگائی جاسکے اور خواتین سے متعلق تمباکو نوشی کی روک تھام والے پروگراموں کو فروغ دیا جائے ۔
انسداد تمباکو نوشی کی مہم ہی کاایک حصہ یہ ہے کہ قانونی طور پر سگریٹ کے پیکٹ اور تمباکو سے تیار شدہ اشیاء نیز ان کے اشتہارات پر تمباکو کے مضر صحت ہونے کی عبارت علاقائی زبان میں تحریر کرنا ضروری ہے ۔ مثلا سگریٹ کے پیکٹ پر اردو میں لکھاجاتاہے ’’سگریٹ پینا صحت کے لیے مضر ہے ‘‘ اور انگلش میں لکھاجاتاہے Cigarette smoking is injurious to helth اور عربی میں لکھاجاتاہے ’’ التدخین سبب رئیسی للسرطان وأمراض الرئۃ والقلب والشرایین ‘‘ مصر کے مفتی اعظم نصر فرید واصل نے تجویز پیش کی ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ پر ’’ التدخین حرام شرعاً ‘‘ لکھا جانا چاہیے ۔