چھ ملکوں کے کسٹم ڈائرکٹروں کی ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء کو کویت میں منعقد ایک میٹنگ میں کیا گیا ۔
ملیشیا کے وزیرِ صحت لی کم سائی نے کہاہے کہ حکومت ۱۸ سال سے کم عمر کے افراد کی سگریٹ نوشی پر پابندی لگانے کی غرض سے ایک قانون بنانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صحت جلد ہی کابینہ میں اس ضمن میں ایک بل پیش کرے گی ، ۱۸ سال سے کم عمر کے لوگوں کو سگریٹ فروخت کرنے کی بھی ممانعت کی جائے گی۔ اسی کے ساتھ ہی سگریٹوں کے اشتہارات کو بھی ممنوع قرار دیا جائے گا
وزیرِ اعظم مآثر محمد تمباکو نوشی کے سخت خلاف ہیں ، ملیشیا میں موٹر گاڑیوں ، اسپتالوں ، کلینکوں اور تمام سرکاری دفتروں میں تمباکو نوشی ممنوع ہوچکی ہے ۔
ہمارے ملک ہندوستان میں سرکار نے اسپتالوں ، سرکاری دفاتر ، کانفرنس ہال ، انڈین ایرلائز کی اندرون ملک پروازوں اورایر کنڈیشنڈریلوے کوچوں میں سگریٹ نوشی کو منع کردیا ہے، کھیلوں اورتعلیمی پروگراموں کے لیے تمباکو کمپنی کی طرف سے اسپانسر شپ اور اشتہارات کو منع کردینے کے اقدامات ہورہے ہیں مرکزی اور ریاستی سرکاریں مختلف طریقوں سے تمباکو نوشی پر پابندی کے اقدامات کررہی ہیں ۔
وزارتِ ریلوے کے ہیڈ کوارٹر ریل بھون کو ’’نواسموکنگ زون ‘‘ قراردیا گیا ہے ۔ اس قانون کے مطابق اب ریل بھون میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہوگی اور اسکی خلاف ورزی کرنے والوں کو ۱۰۰ سے ۵۰۰ روپے تک کے جرمانے کے علاوہ جیل کی سزا بھی ہوگی ۔ ریل بھون کے سبھی افسروں اور ان سے ملاقات کے لیے آنے والے لوگوں کو صلاح دی گئی ہے کہ ریل بھون میں سگریٹ نوشی نہ کریں ۔
اب ملک میں کہیں بھی کسی بھی پبلک مقام پر لوگ تمباکو نوشی نہیں کرسکیں گے ، اس سلسلہ کا ایک حکم ۲نومبر ۲۰۰۱ء کوسپریم کورٹ نے عوامی مفاد کی ایک رٹ کی سماعت کے دوران جاری کیا ۔ عدالت عظمی نے مرکزی سرکار ، تمام ریاستی سرکاروں اور