استعمال کیے جاتے ہیں ، ایک زمانہ میں اس کی بڑی شہرت تھی ، کیوبا ، برازیل اور فلپائن وغیرہ کے سگار بہت مقبول تھے ۔
۴۔ پائپ کے ذریعہ بھی تمباکو استعمال کیا جاتاہے ، اس کے بارے میں خیا ل ہے کہ دھواں منہ تک پہونچنے سے قبل ٹھنڈا ہوجاتا ہے ، اور تمباکو کا دھواں نکوٹین اور دیگر مضر اجزاء سے صاف ہوجاتا ہے پھر بھی یہ طریقۂ استعمال ہونٹوں کے کینسر و دیگر امراض سے نہیں بچا سکتا ۔
پائپ کے ذریعہ جو تمباکو استعمال کیا جاتا ہے وہ ایک خاص طریقے سے تیار کیا جاتا ہے ۔
۵۔ حقّہ کے ذریعہ بھی تمباکو نوشی بکثرت کی جاتی ہے ، اور یہ طریقہ استعمال بعض عرب ملکوں میں بھی بہت مقبول ہے ، حقہ میں استعمال ہونے والا تمباکو بھی ایک خاص طریقے سے تیار کیا جاتاہے ، حقہ کے پانی کے بارے میں خیال ہے کہ وہ تمباکو کے دھوئیں کو صاف کرکے بے ضرر کردیتاہے لیکن یہ نظریہ درست نہیں ہے کیونکہ بہت سے لوگ حقہ نوشی کی وجہ سے اپنی جانیں گنوادیتے ہیں ، سینے کے امراض کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ حقہ نوشی کے عادی وہم وگمان میں مبتلا ہیں اگر وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ حقہ سگریٹ سے کم نقصان دہ ہے ۔
پاکستان میں ایٹمی توانائی کے ایک طبی مرکز نے اس عقیدہ کو غلط ثابت کیا ہے کہ روایتی حقہ سگریٹ کے مقابلہ میں صحت کے لیے کم مضر ہے ، ملتان میں واقع اس مرکز میں کیے گئے ایک مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ اور حقہ دونوں سے ہی کاربن مونو آکسائڈ کے زہریلے اثرات صحت کے لیے یکساں خطرہ ہیں ۔ اونچے درجہ حرارت پر کاربن ایندھن کی نامکمل سوختگی سے کاربن مونو آکسائڈ گیس پیدا ہوتی ہے ، سگریٹ کے کنارہ اور حقہ کی چلم دونوں ہی میں یہ گیس بنتی ہے ۔
عالمی ادارہ ٔ صحت کے ایک سینیر مصری ڈاکٹر شریف عمر کا کہنا ہے کہ حقے کے