’’ والأمم المتوحشۃ تمضغہ وھذہ أکثر الطرق ضرراً لدخولہ فی المعدۃ مع الریق ‘‘۔
ترجمہ: ’’ یعنی وحشی قومیں تمباکو کو چباتی ہیں اور یہ طریقۂ استعمال تمباکو کے لعاب کے ساتھ معدہ میں داخل ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مضر ہے ‘‘۔
یہ طریقۂ استعمال برصغیر ہند اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں بہت مقبول ہے ، حالانکہ اس کے استعمال سے منہ میں سخت بدبو پیدا ہوتی ہے اور منہ میں کینسر بھی ہوجاتاہے جیسا کہ اس سلسلے میں تحقیقات سے پتہ چلتاہے۔ گٹکے میں بھی تمباکو ہوتاہے اور اکثرپان مسالے میں بھی، یہ دونوں بغیر پان کے چباکر استعمال کیے جاتے ہیں ، لیکن زردہ پان کے ساتھ استعمال کیا جاتاہے ، استعمال کی یہ سب شکلیں صحت انسانی کے لیے سخت مضر ہیں ۔ پان مسالے اور گٹکے سے نہ صرف دل کا دورہ ، منہ کا کینسر ہوتاہے بلکہ لقوہ جیسی بیماری بھی عام ہونے لگی ہے ، گٹکے کے بارے میں تو ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی مضر ہے تو گٹکا خوری مہلک ہے ۔
۲۔ سونگھ کر استعمال کرنا یعنی نسوار یاناس کے ذریعہ ،نسوار کو پاؤڈر کی شکل میں تیار کیا جاتاہے اور اس میں نشاط انگریز دوسرے اجزاء کی آمیزش کی جاتی ہے ، یہ طریقۂ استعمال بھی صحت کے لیے مضر ہے کیونکہ اس سے بھی زہریلے اجزاء ناک کے ذریعہ جسم میں داخل ہوتے ہیں ، پہلے یہ طریقۂ استعمال بہت رائج تھا ،تمباکو کی عالمی پیدا وار کا نصف نسوار کی شکل میں استعمال ہوتا تھا ۔ لیکن اب اس طریقہ ٔ استعمال کی مقبولیت کم ہوگئی ہے اور سگریٹ نوشی کا رجحان زیادہ ہوگیا ہے اس وقت تمباکو کی عالمی پیداوار کا صرف ۲% ہی نسوار میں استعمال ہوتاہے، افغانستان وپاکستان میں نسوار کی ایک قسم دانتوں کی سائڈ میں رکھ کر بھی استعمال کی جاتی ہے، اس صورت میں تمباکو کے زہریلے اثرات منہ کی تہ سے جذب ہوکر خون کے ذریعہ بقیہ جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔
۳۔ سگار کے ذریعہ بھی تمباکو نوشی کی جاتی ہے ، اس میں تمباکو کے پتے بغیر توڑے ہوئے