تحقق إضرارہ بالصحۃ أو المال إضراراً لا یتحمل بحیث یعجزمعہ صاحبہ عن أداء الواجبات المنوطۃ بہ نحوہ أو نحوغیرہ کان حراماً ، تحقیقاً للنصوص التی تأمر بالخیر وتنھی عن الشر ، ولروح الشریعۃ التی جاء ت لمصلحۃ الناس ‘‘ ۱؎
ترجمہ : تمباکو بہرحال ناپسندیدہ چیزہے ، اس کے بارے میں ادنیٰ درجۂ حکم کراہت کا ہے ، اور جب صحت یا مال کو اس کا اس قدر نقصان پہنچانا ثابت ہوجائے کہ وہ ناقابل برداشت ہو کہ تمباکو نوش اپنی ذمہ داریوں کو اپنے بارے میں یا دوسرے کے بارے میں ادا کرنے سے قاصر ہو تو ان نصوص پر عمل کرتے ہوئے جو اچھائی کا حکم کرتی ہیں اور برائی سے روکتی ہیں اور شریعت ۔جولوگوں کے مفاد کے لیے آئی ہے ۔ کی روح کو مد نظر رکھتے ہوئے تمباکو حرام قرار پائے گا ‘‘ ۔
ڈاکٹر محمد علی البار جو جامعۃ الملک عبد العزیز جدہ کے مرکز الملک فھد للبحو ث الطبیۃ میں طب اسلامی کے مشیر ہیں ، ان کو تمباکو کے موضوع پر کافی عبور حاصل ہے ، اس موضوع پر انہوں نے چار کتابیں تصنیف کی ہیں :
۱۔ التدخین وأثرہ علی الصحۃ
۲۔ التبغ تجارۃ الموت الخاسرۃ
۳۔ ھل التبغ والتدخین من المحرمات ؟
۴۔ الموقف الشرعی من التبغ والتدخین۔
آخر الذکر کتاب میں تمباکو کے نقصانات پر روشنی ڈالنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں :
------------------------------