، حلت و حرمت پر علماء کے دلائل پیش کرنے کے بعد وہ اپنی رائے کا اظہار اس طرح کرتے ہیں :
’’ وقد اتضح مما سبق أن القول بالتحریم أرجح وأقویٰ حجۃ وھذا ھو رأینا لتحقق الضرر البدنی والمالی والنفسی باعتیاد التدخین ‘‘۔ ۱؎
ترجمہ : ’’ گذشتہ سطور سے یہ واضح ہوگیا کہ حرمت کا قول زیادہ راجح اور دلیل کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے ، یہی ہماری رائے ہے کیونکہ تمباکو کے پابندی سے استعمال کرنے پر نفسیاتی ، مالی اور جسمانی نقصان ثابت ہے ‘‘ ۔
سید سابق نے بھی ضرر رساں ہونے کی وجہ سے حرام شدہ اشیاء میں تمباکو کو شامل کیا ہے ، چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
’’ ویدخل فی ھذا الباب ’ الدخان ‘ فانہ ضار بالصحۃ وفیہ تبذیر وضیاع للمال ‘‘ ۲؎ ’’ اس باب میں تمباکو شامل ہے ، کیونکہ وہ صحت کے لیے ضرر رساں ہے ، اور اس میں بے جا خرچ اور مال کا زیاں بھی ہے ‘‘۔
شیخ عطیہ صقر ممبر مجمع البحوث الاسلامیہ ولجنۃ الفتوی بالازھر اپنے رسالے ’’ الاسلام والتدخین ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں :
’’ فھو علی أی حال من الأحوال غیر مرغوب فیہ ، فأدنی درجات الحکم علیہ ھی الکراھیۃ ، أما إذا
------------------------------