’’ وتکفی ھذہ الأسباب لتحریم التبغ تحریماً قاطعاً، وتحریم زراعتہ وتداولہ وتجارتہ ، ویضاف إالیھا الاضرار بالآخرین من غیر المدخنین ، وکونہ خبیثاً یؤذی الملائکۃ المکرمین وکل الأسباب الأخری التی تضاف إلی تحریمہ‘‘ ۱؎
ترجمہ : ’’ تمباکو ، اس کی کاشتکار ی ، اس کا استعمال اور اس کی تجارت کو قطعی حرام قرار دینے کے لیے یہ اسباب کافی ہیں ، ان اسباب میں تمباکو نوشی نہ کرنے والے دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچانا بھی شامل کیاجائے گا ۔ اور اس کو بھی کہ وہ گندی چیز ہے جو ملائکہ مکرمین کو اذیت پہنچاتی ہے ، اور دوسرے سارے اسباب جو اس کی حرمت کے لیے شامل کیے جاتے ہیں ‘‘ ۔
گذشتہ سطور سے بخوبی واضح ہوگیا کہ عصر حاضر میں عرب علمائے کرام کا عمومی رجحان حرمت ہی کا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں بتاریخ ۲۷۔۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۰۲ھ مطابق ۲۲۔۲۵ مارچ ۱۹۸۲ء انسداد منشیات پر عالمی کانفرنس منعقد ہوئی تھی تو علمائے کرام نے متفقہ طور پر تمباکو کے استعمال کو حرام قرار دیا تھا ۔
٭
------------------------------