ملت ، اس کی زندگی ، اس کی صحت ، اس کا مال اور اللہ کی ساری ہی نعمتیں اس کے پاس امانت ہوتی ہیں ، لہذا ان کو ضائع کرنا جائز نہیں ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ولا تقتلوٓا أنفسکم إن اللہ کان بکم رحیماً ‘‘ (النساء : ۲۹)
اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو ، یقیناً اللہ تم پر مہربان ہے ۔
اور فرمایا :
’’ ولا تلقوا بأیدیکم إلی التھلکۃ ‘‘ (البقرۃ : ۱۹۵)
اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ لا ضرر ولا ضرار ‘‘ ( احمد و ابن ماجہ )
ضرر پہنچانا اپنی تمام صورتوں کے ساتھ ناجائزہے ، اس اصول کی مناسبت سے ہم کہتے ہیں کہ تمباکو اگر استعمال کرنے والے کے لیے مضر ثابت ہورہا ہے تو حرام ہے ، خاص طور سے جبکہ ڈاکٹر کسی خاص شخص کے بارے میں یہ بتلائے کہ تمباکو کا استعمال اس کے لیے نقصان دہ ہے ، اگر بالفرض تمباکو مضر صحت نہ ہو تب بھی وہ مال کا ضیاع ہے جس میں نہ دینی فائدہ ہے نہ دنیوی ۔ حدیث میں ہے :
’’ نھی النبی ﷺ عن إضاعۃ المال ‘‘ (البخاری )
’’ نبی کریم ﷺ نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے‘‘
اور یہ ممانعت اس صورت میں اور مؤکد ہوجاتی ہے جب کہ آدمی اپنی ذات یا اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کا ضرورت مند ہو ‘‘ ۱؎
علامہ یوسف قرضاوی نے فتاوی معاصرہ میں کئی صفحات پر تمباکو پر بحث کی ہے
------------------------------