۔ پان میں ڈال کر ، منہ میں دباکر رس چوستے رہنا وہ عادت بد ہے جس کے بدترین نتائج سامنے آتے رہتے ہیں ، آکلۃ الفم ، بخر سے بھی زیادہ بدبو ئے دہن ، منہ ، گلا ، مری کے امراض اور معدہ میں تمباکو کی سمّی رطوبات جانے کے بعد سرطانی اعراض کا خطرہ ہوسکتاہے ۔
جسم و حیات اور صحت اللہ کا عطیہ ہے ، امانت الٰہی ہے اس کی حفاظت اور اسے نقصان سے بچانا ضروری امر ہے ، اسی لیے غذا کی غلطی و بے قاعدگی یا نقصان پہنچانے والی دوا کا استعمال مجرمانہ عمل ہے ، کتاب کا مطالعہ کرکے استعمال تمباکو خصوصاً تیز تمباکو یا اس کے کثرت استعمال سے پیدا ہونے والے نقصان پرنظر ڈال کر مومنانہ عقل و فہم سے کام لے کر فیصلہ کیا جائے ۔ قال ہادینا علیہ السلام : لکل شیٔ دعامۃٌ ودعامۃ المؤمن عقلہ (ابوداؤد ، نقلا ازکنوز الحقائق فی حدیث خیر الخلائق لعبد الرؤف المناوی المتوفی ۱۰۳۱ھ ص ۱۲۱)
علمائے اسلام کی کثیر تعداد نے تمباکو کو ناپسند کیا ہے اسے حرام یا مکروہ تحریمی یا مکروہ تنزیہی یا مباح فرمایا ہے ۔ اس کے بعد تو اسے طیبات میں داخل کیے جانے کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی ۔ ہندو پاک کے علمائے احناف کے اباحت کے فتوے اور لفظ اباحت کے مفہوم کو سامنے رکھ کر بھی یہی نتیجہ سامنے آتاہے کہ اس کا ترک اس کے استعمال سے اچھا ہے ’’ الأولی لکل ذی مروء ۃ ٍ ترکہ ‘‘ بات اتنی ہی نہیں بلکہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے الفاظ میں پینے والا اس کا گناہ سے خالی نہیں ۔
مانعین استعمال تمباکو میں علمائے ہند کے شیخ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ تمباکو نوشی کے مخالف تھے ، ان کے والد بزرگ ومحترم کا ارشاد دو شخصوں کا خواب اور تمباکو نوشی کی وجہ سے حضورنبی اور محفل رسول علیہ السلام کی حاضری سے محرومی ۔
محدث جلیل وعظیم شیخنا المکرم مولانا حیدر حسن خاں (شیخ الحدیث وناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ ، متوفی ۱۳۶۱ھ ۱۹۴۲ء) تمباکو کھانے پینے والوں سے سخت ناراض تھے ، حفاظ ، قرّاء اور ائمہ