وھی من الملاھـی وأقبح الــدواھــی
تلھـی عـن الصلاۃ والـذکر والقیلات
لأنـھـا کالخـــمـر فاصغ أخی لتدری
لأن مــا یـفـتـــــر کـمـثل مـایــسکر
کـذاک فـــی الآثـار عـن النبی المخـتار
سیدی ابوا لغیث القشاش مالکی کی نظرسے جب یہ نظم گزری تو اپنے تلامذہ اور متبعین کو اس کے مطابق عمل کرنے کی تلقین کی اوراعلان کیا کہ وہ تمباکو کی حرمت کے قائل ہیں ۔
مصطفی بولاقی مالکی نے حرمت کا فتوی دیا ہے ، عبدالملک عصامی مالکی نے تمباکو کی حرمت پر ایک رسالہ تالیف کیا ہے ، عبدالعزیز الدباغ بھی حرمت کے قائل ہیں ، ان کے شاگرد عبد اللہ المبارک ان کا قول ’’الابریز ‘‘میں نقل کرتے ہیں کہ
’’ الدخان المعروف بطابۃ حرام لأنہ یضر البدن ولأن لأھلہ ولاعۃ بہ تشغلھم عن عبادۃ اللہ وتقطعھم عنہ ‘‘۔۱؎
ترجمہ : ’’ طابہ کے نام سے معروف تمباکو حرام ہے ، اس لیے کہ وہ بدن کے لیے مضر ہے اور اس لیے کہ تمباکو نوشوں کو اسکی ایسی لت پڑ جاتی ہے کہ ان کو عبادت الٰہی سے غافل اور اللہ سے قطع تعلق کا سبب بن جاتی ہے ‘‘۔
عبد اللہ عصامی مالکی نے بھی حرمت کا فتویٰ دیا ہے وہ فرماتے ہیں :
’’ اعلم أن الدخان حرام وغیر جائز شربہ ‘‘ ۔۲؎
ترجمہ : ’’تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمباکو نوشی حرام اورناجائز ہے‘‘
------------------------------