مؤلف ابو العباس احمد بن محمد مقری تلمسانی او رقاضی ابو عبد ا للہ محمد بن ابی القاسم بن سودہ مری فاسی حرمت کے قائل تھے ۔ قاضی ابو عبد اللہ محمد بن احمد مصمودی سجلماسی ، قاضی ابو مہدی سیدی عیسیٰ کتانی حرمت کے قائل تھے ۔ نیز ابو عبد اللہ محمد بن احمد مناوی بکری دلائی بھی یہ نظریہ رکھتے تھے ۔ ابو عبد اللہ محمد بن عبدالسلام بناتی کہتے ہیں : کہ سارے علمائے مراکش جو اہل تدین و تحقیق ہیں مصر کے اکثر مالکی شافعی حنفی علماء کی طرح اسکی حرمت کے قائل ہیں ۔ محمد بن جعفر کتانی نے لکھا ہے کہ حرمت کے فتاوی تین سو سے زیادہ ہیں اور ان فتاوی کو ایک صاحب نے کئی جلدوں میں مرتب کیا ہے ۔
اپنے زمانے کے شیخ المالکیہ ابو عبد اللہ محمدبن احمد میارہ فاسی نے زبدۃ الاوطاب میں لکھا ہے کہ علمائے متاخرین کے فتاوی اس کے بارے میں مختلف ہیں ۔ کسی نے اس کو حرام قرار دیا ہے او رکسی نے اسکی مدح سرائی کی ہے، اسکو غیر مسکر اور غیرمفتر مان بھی لیا جائے تو اس کی حرمت کے لیے دیگر جو امور پیش آتے ہیں وہ بے شمار ہیں ۔ لہذا اس کا ترک کرنا لازم ہے ۔ انہوں نے اپنی دوسری تصنیفات تکمیل المنھج اور المرشد المعین کی شرحوں میں بھی مذکورہ بالا رجحان کا اظہار کیا ہے ۔
محمد بن علی جمالی مغربی مالکی نے تنبیہ الغفلان فی منع شرب الدخان اور محمد والی فلانی سوڈانی مالکی نے غایۃ البیان فی تحریم الدخان تالیف کیا ہے ۔
مراکش کے ایک عالم نے تمباکو پر ایک نظم تحریر کی تھی جس میں تمباکو کے نقصانات اور اسکے مفتر ہونے کا ذکر کیا تھا ، اس کے بعض اشعار درج ذیل ہیں ۔
من مصھا سیذھب منہ الحیا مجـرب
من مصھا سیمرضا حتی یکون حرضـا
تــغـیر الألــوانـــا تسـخــم الـجـنانـا