رائے سے جو چاہا کہدیا اس لیے کہ تمباکو پینا خبائث سے ہے ۔ ارشاد باری ہے : اور وہ ان پر خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتاہے ۔ اور ہلاکت خیز ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ او ر اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘ ۔ اور فضول خرچی ہے ، ارشاد الٰہی ہے فضول خرچی نہ کرو ۔ او ربے جا خرچ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے بے شک بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ۔ او رمفترہے اور نبی ﷺنے ہر مفتر و مسکر چیز سے منع فرمایاہے اور اس میں بڑا نقصان ہے ،اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ اپنے کو نقصان پہنچاناجائز اور نہ دوسروں کو ‘‘ ۔
عبد الکریم بن محمد بن عبد الکریم فکون مالکی متوفی ۱۶۶۳ء نے ایک رسالہ محدد السنان فی نحور اخوان الدخان تمباکو کی حرمت پر لکھا ہے ۔
سلیمان بن محمد بن محمد بن ابراہیم فلانی نے تمباکو کی حرمت پر دو رسالے تالیف کیے ہیں ۔ ایک غایۃ الکشف والبیان فی تحریم شرب الدخانہے اور دوسرا الأدلۃ الحسان فی بیان تحریم شرب الدخان ۔
ابو زید عبد الرحمن بن احمد کتامی مالکی نے ایک رسالہ الدلیل والبرہان علی تحریم شجرۃ الدخان تصنیف کیا ہے ، محمد بن جعفر کتانی ادریسی نے تمباکو پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے ۔ جسکا نام إعلان الحجۃ وإقامۃ البرھان علی منع ما عم و فشا من استعمال الدخان ہے ۔ جو الدخان مابین القدیم والحدیث کے نام سے دار الفیحاء دمشق نے ۱۹۹۷ء میں پہلی بار شائع کی ہے اس کتاب سے راقم الحروف نے استفادہ کیا ہے جس کے متعدد حوالے اس کتاب میں آپ کی نظر سے گزریں گے ۔ مؤلف نے یہ کتاب تمباکو کی حرمت پر تالیف کی ہے اور بہت تحقیقی انداز میں مرتب کی ہے