الفاسق المضل الجاھل تالیف کیا ہے ۔ اس رسالہ کا مؤلف کسی اور کو بھی بتایا گیا ہے ۔ بہر کیف یہ رسالہ سلامہ آفندی کی کتاب الاعلان بعدم تحریم الدخان کا جواب ہے ۔ الاعلان بعدم تحریم الدخان کی فوٹو کاپی بھی مجھے دبئ کے مشہور تاجر جمعۃالماجد کے مکتبے سے حاصل ہوئی ہے اس کے حوالے سے بھی بعض عبارتیں پہلے گزر چکی ہیں ۔ محمود خطاب سبکی نے محمد بن عبد اللہ طرابیشی کی عقود الجواھر الحسان فی بیان حرمۃ التبغ المشہور بالدخانکی تقریظ میں (جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ) تحریر فرماتے ہیں :
’’ قد اطلعت علیٰ ھذہ الأرجوزۃ المسماۃ بعقود الجواھر الحسان فوجدتھا فی بابھا مشیدۃ الأرکان بشھادۃ الکتاب والسنۃ وإجماع العلماء ولا عدۃ بمن غلبت علیہ شھوتہ فقال برأیہ ماشاء إذ شرب الدخان من الخبائث وقد قال اللہ تعالیٰ :(ویحرم علیہم الخبائث) ( الأعراف : ۱۵۷) ومھلک ، وقد قال اللہ عز وجل : ( لاتلقوا بأیدیکم إلی التھلکۃ ) ( ا لبقرۃ : ۱۹۵) واسراف، وقد قال اللہ تعالیٰ (ولا تسرفوا ) ( الأنعام:۱۴۱) وتبذیر،وقد قال سبحانہ وتعالی:(إن المبذرین کانوٓا إخوان الشیاطین ) (الاسراء : ۲۷) ومفتر ، وقد نھیﷺ عن کل مسکر ومفتر ، وفیہ ضرر کبیر ، وقد قال رسو ل اللہ ﷺ لا ضرر ولا ضرار ‘‘ ۱؎
ترجمہ : ’’ میں عقود الجواہر الحسان کے نام سے موسوم قصیدے سے مطلع ہوا اور اسے اپنے موضوع پر کتاب و سنت اور اجماع علماء سے مدلل و مزین پایا ۔ اس شخص کا اعتبار نہیں جس پر شہوت غالب ہوگئی تو اپنی
------------------------------