اس کے بارے میں ہمارے مذہب و مسلک میں مختلف اقوال ہیں ۔ شیخ میارہ کی اس کے بارے میں عبارت یوں ہے : اور رہا تمباکو پھانکنا تو اسکے بارے میں ہمارے شیوخ کے فتوے مختلف ہیں ، ان میں سے بعض نے اس کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے اور بعض نے اس سے منع کیا ہے اور ظاہراً منع ہے کیونکہ اس میں بے شمار خرابیاں ہیں اور العزیہ پر عبد الباقی کے حاشیے میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ مباح ہے اور اس کے متعلق احکام مرتب ہونگے ۔ لہذا مساجد میں تلاوت قرآن کے وقت اور مجلسوں میں وہ حرام ہوگا ۔ اس لیے کہ لوگوں کو اس کی بو سے تکلیف ہوتی ہے اس کے سوا مقامات میں اس کا استعمال جائز ہوگا ۔ اور اسکا پینا حرام ہوگا جب حاکم وقت اس سے منع کردے ۔ اس لیے کہ امام مالک کا مسلک ہے کہ حاکم کی اطاعت ضروری ہے جبکہ وہ حرام کا حکم نہ دے ۔ جب اس حاکم کا انتقال ہوجائے یا معزول کردیا جائے جس نے تمباکو کے پینے سے منع کیا تھا تو تمباکو اپنے اصل حکم پر لوٹ آئے گا اور وہ اباحت ہے جب تک کہ وہ عقل کو غائب نہ کرے ۔ ورنہ وہ حرام ہوگا ‘‘ ۔
خالد بن احمد مالکی فرماتے ہیں :
’’ لا تجوز إمامۃ من یشرب التبناک ، ولا یجوز الاتجار بہ ولا بما یسکر ‘‘ ۱؎
ترجمہ : ’’ اس شخص کی امامت جائز نہیں ہے جو تمباکو پیتاہے اور نہ تمباکو کی تجارت جائز ہے اور نہ نشہ آور چیز کی ‘‘ ۔
------------------------------