اللهم وصححها وبارك لنا في مدها وصاعها وانقل حماها فاجعلها بالجحفة․ رواه البخارى ( صحيح البخاری :کتاب المناقب،باب مقدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ المدینة (رقم۶۳۷۲)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو تیز بخار آگیا ، فرماتی ہیں کہ میں ان دونوں حضرات کے پاس آئی اور پوچھا : ابا جان آپ کا کیا حال ہے ؟ اور اے بلا ل آپ کا کیا حال ہے ؟ فرماتی ہیں کہ جب حضر ت صدیق اکبر رضى ا لله عنہ کو بخارچڑھتا تھا تو یہ (شعر) پڑھتے تھے:
کل امرئ مصبح في أهله والموت أدنی من شراك نعله
ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح بخیر کہا جاتا ہے۔
حالانکہ موت اسکے جوتے کے تسمہ سے بھی زیادقریب ہے۔
یعنی ہر شخص کو صبح کے وقت دوسرے لوگ صبح بخیر کی دعا دیتے ہیں لیکن موت کا کسی کو پتہ نہیں کب آکھڑی ہو اور وہ(موت) انسان سے اتنے قریب ہے کہ اس کے جوتے کا تسمہ بھی قدم سے اتنا قریب نہیں ۔اور حضرت بلال کو جب بخار سے افاقہ ہوتا تھا تو مکہ مکرمہ کو یاد کرکے یوں شعر پڑھتے:
ألا لیت شعری هل أبیتن لیلة
کاش مجھے معلوم ہوجائے کہ کیا میں کوئی رات گزار سکوں گا
بواد وحولي إذخر وجلیل
وادی(مکہ) میں اس حال میں کہ اذخر اور جلیل گھا س میرے ارد گرد ہو