من عالم المدینة )) ․ رواه احمدوالترمذي والحاكم رواہ الإمام أحمد (۲ /۲۹۹)، والترمذی (۲ /۶۸۰)، وقال : هذا حدیث حسن ، والحاکم( ۱ /۹۰) وصححه ووافقه الذهبی )
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضى الله عنہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ عنقریب لوگ اونٹوں کے ذریعہ دور دراز کا سفر کرکے آئیں گے سو ان کو مدینہ کے عالم سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ملے گا۔
تشریح: وہ بڑا عالم جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ یہ فرمان عالی ہے اس سے کون مراد ہے اس کے بارے میں امام ترمذی فرماتے ہیں وقد روی عن ابن عیینة أنه قال فی هذا سئل من عالم المدینة فقال : إنه مالك بن أنس ، وقال إسحاق بن موسی سمعت ابن عیینة یقول : هو العمری الزاهد واسمه عبد العزیز بن عبد اللہ ، وسمعت یحیی بن موسی یقول: قال عبد الرزاق هو مالك بن أنس والعمری عبد العزیز بن عبد اللہ من ولد عمر بن الخطاب رضى الله عنه .
ترجمہ:اب یہ مدینہ کے عالم کون ہیں جن کے بارے میں اس حدیث شریف میں خوشخبری دی گئی ہے ؟ امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عیینہ نے فرمایا کہ یہ امام مالک بن انس ہیں، اور حضرت اسحاق بن موسیٰ کا بیان ہے کہ ابن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ وہ حضرت عبد العزیز بن محمد بن عمری زاہد ہیں، اورحضرت يحيى بن موسیٰ امام عبد الرّزاق رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور عبد العزیز بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو حضرت عمر