ایک صدیق اور دوشہید ہیں۔ (بخاری شریف)
فائدہ: یہ حدیث نبی ٴ اکرم ﷺ کے دلائل نبوت میں سے ہے کہ جیسا فرمایا ویسا ہی ہوا کہ ان دونوں حضرات یعنی حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے جامِ شہادت نوش کیا۔
وعن سهل بن سعدرضى الله عنه قال ارتج أحد وعلیه النبي ﷺ وأبوبکر وعمر وعثمان فقال النبی ﷺ : أثبت أحد ما علیك إلا نبي و صدیق و شهیدان. رواہ أحمدوأبو یعلی (رواہ أحمد (۵ /۳۳۱) وأبو یعلی(۶ / ۴۹۱) ورجالہ رجال الصحیح کما فی مجمع الزوائد، وصححہ ابن حبان (۸ /۱۴۴)
ترجمہ: حضرت سہل بن سعد رضى الله عنہ فرماتے ہیں کہ احد زورسے جنبش کرنے لگا جبکہ اس پر نبی ٴ اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضى الله عنہ تھے ، سو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ٹھیرجا اے احد !کیونکہ تجھ پر ایک نبی اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
فائدہ : احد پہاڑ کا جنبش کرنا رسول اکرم ﷺ سے محبت ظاہر کرنے کے لئے تھا،یعنی جبل اتنا خوش ہوا کہ خوشی میں ہلنے لگا،اورکیوں نہ خوش ہوتا اس پر تو اللہ تعالی کے سب سے پیارے نبی امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ تشریف لائے ہیں، اس کی تو خوشی کی انتہا نہ رہی ، اور جب آنحضرت ﷺ نے اس پراپنا قدم مبارک مارکر فرمایا کہ ٹھیر جا تو وہ فوراً ٹھیر گیا ، یہ اس کا ٹھیر جاناتعمیل حکم میں تھا، طاعت میں تھا، فرماں برداری میں تھا، انسانوں کو بھی اس سے سبق سیکھ لینا چاہیئے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت اور طاعت میں کوئی کسر نہ رکھیں ۔محبت وطاعت میں