حدیث کا ہے جو ابوداؤد شریف میں مذکور ہے۔
سنت سُرمہ:۔ عورت اور مَرد دونوں کو سُرمہ لگانا مسنون ہے۔ رات کو ہر آنکھ میں تین تین سلائی لگائے ۔ یہ روایت ترمذی شریف میں ہے۔
سنتِ حجامت:۔ مسنون یہ ہے کہ یا تو تمام سر پر بال رکھے اور یا پھر تمام سر کے بال مونڈائے۔ اور تھوڑے بال ایک طرف کے کٹوانا اور ایک طرف کے باقی رکھنا یہ حرام ہے۔ اے مسلمانو! اس سے ضرور بچنا چاہئے۔
شادی اور نکاح کی سنتیں
سنت نکاح:۔ نکاح کی سنت یہ ہے کہ سادگی کے طریقہ سے ہو اور اس میں زیادہ تکلف اور بہت زیادہ سامان نہیں ہونا چاہئے۔
سنت یوم:۔ نکاح کیلئے مسنون دن جمعہ کا ہے جو برکت اور بھلائی کا سبب ہے۔
سنت مکان:۔ اور مسجد میں نکاح کرنا مسنون ہے۔
سنتِ اعلان:۔ یعنی سنت ہے کہ نکاح کو مشہور کیا جائے، اور دف بجایا جائے یعنی ایسا باجا جو ایک طرف سے کھلا ہوا ہو جس کو دف اور ڈھبڑا کہتے ہیں۔
سنّت خُرما:۔ نکاح کے بعد چھوارا یا کھجور کا لُٹانا اور تقسیم کرنا سُنّت ہے۔
سنت شب:۔ یہ ہے کہ جب پہلی رات کو اپنی بی بی کے پاس جائے تو اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وخَیْرَ مَا فِیْھَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا
سنت شوّال:۔مسنون اور محبوب طریقہ یہ ہے کہ نکاح ماہ شوال میں کیا جائے کہ برکت کا باعث ہے۔
سنت ولیمہ:۔ مسنون ہے کہ جب پہلی رات اپنی زوجہ کے پاس گذارے تو ولیمہ کرے اور اپنے عزیزوں ،رشتہ داروں اور دوستوں و مساکین کو کھلاوے اور یہ ضروری نہیں کہ ولیمہ بہت بڑے سامان سے کیا جائے بلکہ اگر تھوڑا ہی کھانا پکا کر اپنے عزیز رشتہ داروں کو تھوڑا تھوڑا کھلائے تب بھی سنّت ادا ہوجائے گی۔ اور سب سے خراب ولیمہ وہ ہے جس میں مالدار اور دنیادار لوگ بلائے جائیں اور مسکین غریب اور دیندار نہ بلائے جائیں، بلکہ نکالے جائیں غریب محتاج۔ اے بھائیو! جب ولیمہ کرو تو اس میں سنت کی نیت رکھو اور مسکین غریب اور دیندار کو بلاؤ ۔ اور امیروں میں سے جس کو چاہو بلاؤ لیکن غریبوں کو نہ نکالو۔ اور جو شخص دکھلانے اور ناموری کیلئے ولیمہ کرتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں ایسے شخص کو ولیمہ کا کچھ ثواب نہیں بلکہ اﷲتعالیٰ کے غصہ کا ڈر ہے۔
سنت دعوت:۔ دعوت کا قبول کرنا سنت ہے۔ لیکن جو شخص حرام مال کھاتا ہو اور رشوت اور سود یا بدکاری میں مبتلا ہو اس کی دعوت قبول نہ کرنی چاہئے۔ اور