اگر یہ شخص ابھی سے پانسو روپیہ یا ہزار روپیہ کی پیشگی زکوٰۃ ادا کر دے تو جائز و درست ہے۔
:۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ عباس رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ ﷺ سے سال گذرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ ادا کرنے کی اجازت چاہی (اس خیال سے کہ نیک کام میں جہاں تک عجلت ہو بہترہے) آنحضرت ﷺ نے اجازت دی (ابوداو‘د وترمذی وابن ماجہ)
۴۲:۔ زکوٰۃ صرف نقد روپیہ اور سونے چاندی پر آتی ہے یا کسی اور جنس کے مال میں بھی آتی ہے؟
۔ نقد روپیہ اور سونے چاندی پر ہر طرح زکوٰۃ واجب ہے خواہ کسی نیت سے رکھا ہو مکان بنانے کو یا شادی کرنے کو یہاں تک کہ اگر مسجد بنانے یا حج کرنے کی نیت سے بھی رکھا ہے تو سال گذر جانے پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اور دوسری قسم کے مال میں صرف اسی صورت میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے کہ اس کو تجارت کی غرض سے رکھا ہو۔ مثلاً ہزار روپیہ کی لکڑی یا کپڑا تجارت کے لئے بھر رکھا ہے تو ہزار روپیہ کی زکوٰۃ دینی ہوگی۔ اور اگر لکڑی مکان بنانے یا جلانے کے واسطے اور کپڑا پہننے یا شادی وغیرہ کے سامان کا ہے تو زکوٰۃ نہ آئے گی۔
:۔ سمرہ بن جندب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ ہم کو اُس مال سے زکوٰۃ نکالنے کا حکم فرمایا کرتے تھے جس کو ہم تجارت کیلئے رکھتے تھے (ابوداو‘د)
روزے کے مسائل
۴۳:۔ روزے میں شدت تشنگی اور گرمی وغیرہ کی وجہ سے بدن پر تر کپڑا لپیٹ لینا یا سر پر بار بار پانی ڈالنا مکروہ ہے یا نہیں؟
۔ صحیح قول علمائے حنفیہ کا بھی یہی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کے نزدیک بھی روزے میں یہ امور جائز ودرست ہیں، کسی قسم کی کراہت نہیں۔
:۔ رسول اﷲ ﷺ کے بعض صحابہ سے روایت ہے کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کو عرج (مقام کا نام ہے) میں دیکھا کہ شدّت تشنگی (یا گرمی) کی وجہ سے آپ کے سر پر پانی ڈالا جاتا تھا۔ (ابوداو‘د ۔ مؤطا)
۴۴:۔ روزہ دار کو سُرمہ لگانا مکروہ ہے یا نہیں؟ یا روزہ بالکل ہی جاتا رہتا ہے؟
۔ روزے کی حالت میں سُرمہ لگانے سے روزہ میں کچھ بھی خلل نہیں آتا۔ نہ روزہ جاتا ہے نہ مکروہ ہوتا ہے۔ اگر سُرمہ لگانے کے بعد سو جائے یا سُرمہ کی سیاہی کا اثر تھوکنے میں حلق سے ظاہر ہو تب بھی کچھ کراہت