درہم و دینار سونا چاندی وغیرہ لیا ہے یا نہیں؟
۔ بعض مواقع پر آپ کا ان چیزوں کو ہاتھ میں لینا ثابت ہے۔ فاطمہؓ کے نکاح کے وقت بھی اپنے ہاتھ سے آپ نے مٹھی بھر کر خوشبو وغیرہ لانے کے واسطے بلالؓ کو درہم دیئے تھے۔
عبد الرحمن بن سمرہؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲﷺ نے جیش العسرۃ(یعنی غزوۂ تبوک۔منہ) کا سامان اور تیاری فرمائی تو عثمانؓ (خلیفہ سوم)اپنی آستین میں ہزار دینار لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اُن کو آپ کی گود میں ڈال دیا۔ مَیں نے اس وقت آنحضرتﷺ کو دیکھا کہ آپ ان دیناروں کو اپنی گود میں اُلٹ پُلٹ رہے تھے اور دو مرتبہ فرمایاکہ ( اس اعلیٰ درجہ کی نیکی) کے بعد عثمانؓ کچھ بھی عمل کر لے اس کو ضرر نہ دے گا(یعنی اگر بمقتضائے بشریت کوئی خطا بھی سرزد ہوجائے تو یہ عملِ خیر غالب آکر اس کو معاف کرا دے گا اور چھپا لے گا) (مسند امام احمد)
۱۱۷:۔ کسی ضروری بات کے بھول جانے کے اندیشہ سے رومال وغیرہ میں گرہ لگا لینا یا ہاتھ پر دھاگا باندھ لینا تاکہ وہ بات یاد رہے جائز ہے یا کچھ اس میں کراہت و مذمت ہے۔
۔ کوئی خرابی نہیں بلاشبہ جائز ہے۔
ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کو جب کسی ضرورت کے بھول جانے کا اندیشہ ہوتا تو اپنی چھوٹی انگشت میں یا انگشتری میں دھاگا باندھ لیتے تھے (ابن سعد۔ طبرانی فی الکبیر از رافع بن خدیج)
۱۱۸:۔ لڑکیوں کو گڑیوں سے کھیلنا جائز ہے یا نہیں؟
۔ جائز ہے۔ بشرطیکہ ان میں آنکھ ،ناک نہ بنائے جائیں بلکہ صرف کپڑے کو لپیٹ کر سی لیا ہو جیسے کہ عموماً دستور ہے۔
عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ کے پاس رہتے ہوئے (یعنی نکاح ہو لینے کے بعد) مَیں گڑیوں سے کھیلتی تھی اور میری ہمجولی لڑکیاں میرے پاس آتی تھیں اور رسول اﷲﷺ ان کو (تلاش فرما کر) میرے پاس لوٹا کر بھیج دیتے تھے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتی تھیں (مسلم۔بخاری۔ ابوداؤد)
۱۱۹:۔ کوئی مشکل سوال اور معمہ یا چیستاں لوگوں سے دریافت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
۔ اس قسم کی باتیں جو اپنے علمی فائدہ یا دوسروں کے نفع کے لئے ہوں وہ مستحب و مسنون ہیں اور جو صرف تفریح طبع کے لئے ہوں وہ جائز و مباح ہیں اور جن سے دوسروں کی تذلیل اور ان کی کم علمی اور اپنی بڑائی ظاہر کرنا منظور ہو ایسے مشکل سوالات و معمّے ناجائز اور سخت ممنوع ہیں۔
ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ آپ کی خدمت میں حاضر تھے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت ایسا ہے