وغیرہ نہیں ہے۔
:۔ عائشہ رضی اﷲ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے روزہ کی حالت میں سُرمہ لگایا ہے (ابن ماجہ)
:۔ ابورافع سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ روزے میں اثمد کا سُرمہ لگا لیتے تھے۔ (طبرانی وبیہقی و ابوداو‘د از انس)
:۔ انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ یا رسول اﷲ میری آنکھ میں تکلیف ہے ۔ کیا سُرمہ لگا لوں حالانکہ روزہ دارہوں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں لگا لو (ترمذی)
۴۵:۔ اگر کسی روزہ دار شخص کو جنابت کی حالت میں (یعنی غُسل کی ضرورت میں) صبح صادق ہوجائے اور اُس کے بعد غُسل کرے تو اس دن کا روزہ صحیح ہوگا یا نہیں یا کسی قدر نقصان آجائے گا؟
۔ حالت جنابت میں صبح صادق ہوجانے سے روزہ میں کسی قسم کا خلل اور نقصان نہیں آتا خواہ احتلام کی وجہ سے غسل کی ضرورت ہو یا صحبت و جماع سے۔ یہ مسئلہ قرآن مجید کے اشارہ سے بھی ثابت ہے۔ اور حدیث شریف میں بھی اس کا صاف بیان ہے۔
:۔ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے دروازہ پر کھڑے ہو کے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ مجھ کو حالت جنابت میں صبح ہوجاتی ہے اور روزہ کا ارادہ ہوتا ہے (کیا روزہ صحیح ہوسکتا ہے یا نہیں) آپ نے فرمایا کہ مجھ کو بھی حالتِ جنابت میں صبح ہوجاتی ہے اور روزہ کا ارادہ ہوتا ہے غسل کر لیتاہوں اور روزہ بھی رکھ لیتا ہوں۔اس شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! آپ ہمارے مثل نہیں ہیں۔ خدا تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں (یعنی آپ اگر ایسا کریں تو کیا مضائقہ ہے ہمارے لئے حکم فرمایئے) آپ خفا ہوئے اور فرمایا کہ مجھے اُمید ہے کہ میں تم لوگوں سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور قابل اتباع امور کا زیادہ عالم ہوں (یعنی تم اس قدر ڈرنے والے اور عالم نہیں۔ پس میں کوئی ایسا امر نہیں کر سکتا جو عند اﷲ ناپسندیدہ اور دوسروں کیلئے ناجائز ہو بلکہ سب کا یہی حکم ہے کہ روزہ میں کچھ نقصان نہیں آتا) (ابوداو‘د)
:۔ ام سلمہ رضی اﷲ عنہا (آں حضرت ﷺ کی زوجہ) نے فرمایا کہ رسول مقبول ﷺ کو غسل کی ضرورت میں (رمضان میں) صبح ہوجاتی تھی اور ضرورت بھی صحبت کی وجہ سے ہوتی تھی۔ احتلام سے نہیں۔ پھر آپ غسل فرماتے اور روزہ بھی رکھتے۔ (بخاری ومسلم و ابوداو‘د و نسائی و ترمذی و ابن ماجہ)
۴۶:۔ اگر روزے میں بھول کر کچھ کھا پی لے تو روزہ