استعمال اللہ نے مباح کیا ہے ، جیسا کہ ترمذی اور ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ ’’ حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب عزیز میں حلال کیا ہے ۔ اور حرام وہ ہے جسے اس نے اپنی کتاب کریم میں حرام کیا ہے ۔ اور جس سے خاموش ہے بغیر بھولے اور تم پر مہربانی کرکے تو وہ ان اشیاء میں سے ہے جن کا استعمال کرنا اللہ نے مباح کردیا ہے ، مناوی قول رسول ’’ جس سے خاموش ہے ‘‘ کی شرح میں کہتے ہیں کہ جس کی حلت و حرمت پر آپ کا کوئی نص جلی یا خفی نہیں ہے تو وہ معاف ہے ۔ لہذا اس کا استعمال کرنا جائز ہے ، جب تک کہ اس کے خلاف ممانعت وارد نہ ہو ‘‘ ۔
تمباکو کے بارے میں عبد الغنی نابلسی نے ایک قصیدہ ٔ تائیہ تحریر کیا ہے جو ۴۳ ابیات پر مشتمل ہے اس میں وہ کہتے ہیں :
ومن حرم التدخین جھلاً فقل لہ
جس نے تمباکو نوشی کو جہالت کی بناپر حرام قرار دیا ہے اس سے کہو کہ
بأی دلیل أم بأی شریعۃ
کس دلیل یا کس شریعت کی بنیاد پر ایسا کہا ہے
ولیس بھا سکر ولا اللہ ذمھا
اس میں نہ تو نشہ ہے اور نہ اللہ نے اس کی مذمت کی ہے
فقولک بالتحریم من أی وجھۃ
تو تمہارا حرام کہنا کس نظریہ و اصول پر مبنی ہے
ولا الأ نبیاء عنھا نھوا قط أمۃ
نہ تو انبیاء نے اس سے کبھی کسی امت کو منع کیا ہے