شہنشاہ جہانگیر نے بھی اپنی قلمرو میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کردی تھی ۔ ایران کے شاہ عباس نے بھی جو جہانگیر کا ہم عصر تھا تمباکو نوشی نہ کرنے کا فرمان جاری کیا تھا ۔تزک جہانگیر ی میں ہے:
’’ تنباکو کہ در اکثر مزاجہا وطبیعتہا مقرر است فرمودہ بودم کہ ہیچکس متوجہ بکشیدن آں نشود و برادرم شاہ عباس نیز بضرر آں مطلع گشتہ در ایران میفر مایند کہ ہیچکس مرتکب کشیدن آں نگردد ‘‘۔ ۱؎
ترجمہ : ’’ تمباکو کے بارے میں جس کے اکثر لوگ خوگر ہیں میں نے حکم دیا کہ کوئی شخص تمباکو نوشی نہ کرے ، برادرم شاہ عباس نے بھی تمباکو کے نقصانات سے مطلع ہوکر ایران میں حکم دے دیا کہ کوئی اس کے پینے کا مرتکب نہ ہو ‘‘۔
دوسری طرف مسیحی حکام نے بھی کچھ کم سرگرمیاں نہیں دکھائیں مثلا انگلینڈ میں شاہ جاک اول نے سر والٹر رالیWalter Raleigh کو جس نے تمباکو نوشی کو انگلینڈ میں فروغ دیا ۔ گرفتار کرکے سزائے موت دیدی اور تمباکو نوشوں نیز تمباکو فروشوں کو سخت سزائیں دیں ۔
روسی حکام سترہویں صدی عیسوی کے اواخر تک تمباکو نوش کو پہلی مرتبہ کوڑے مارنے کی سزادیتے ۔ دوبارہ پینے پر اس کی ناک کاٹ دیتے ، تیسری مرتبہ میں سزائے موت دے دیتے ۔
یہ سب تو پرانی باتیں ہیں ، اس زمانے میں بھی انسداد تمباکو نوشی کی مہم جاری ہے ، اور عوام میں ایک حد تک تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں کچھ بیداری ہوئی ہے ، بعض ملکوں کے ٹی وی اسٹیشنوں سے تمباکو سے متعلق اشتہارات نشر ہونے بند ہوچکے ہیں اور بعض اخبارات ورسائل بھی اس سلسلے میں اشتہار ات شائع نہیں کرتے ۔ ہوائی
------------------------------