حیثیت، مضمرات اور استعمال وغیرہ سے متعلق جدید تحقیقات اور تمباکونوشی کے خلاف چلنے والی مہم جیسے اہم مباحث کو بھی بیان کیاہے نیز یہ بتایا ہے کہ مختلف مذاہب میں اس کی کیا حیثیت ہے اور اس کے متعلق مختلف ممالک کے حکمرانوں نے اپنے اپنے زمانہ میں کیا فیصلہ کیاتھا؟ان تفصیلات سے نہ صرف تمباکو کی حقیقت اور اس کے زہریلے اثرات کھل کر سامنے آجاتے ہیں بلکہ اس موضوع پر فقہی اعتبار سے لکھی جانے والی قدیم وجدید تحریروں کا خلاصہ اور عطر بھی قارئین کے سامنے آگیاہے۔
مصنف نے تمباکو کے سلسلے میں جو نقطۂ نظر اختیار کیاہے کہ اس کی خرید و فروخت سُحت اور مالِ حرام کے حکم میں ہے، یہ شدت محلِ نظر ہے کیونکہ تمباکو تو ایک پودا ہے، جس کا استعمال بہت سی ادویہ میں کیاجاتاہے، جیسے بعض وہ پودے جو مہلک اور زہریلے ہیں لیکن علاج کے لیے ان کا استعمال کیا جاتاہے، ان کی کاشت اور تجارت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حرام نہیں کہا جاسکتاہے۔اسی طرح حقہ اور پان میں زردہ کا استعمال بعض اوقات از راہِ علاج اور معمولی مقدار میں کیا جاتاہے۔ اب یہ بات محلِ نظر ہے کہ لذتِ نفس کے لیے اور بڑی مقدار میں تمباکو کا استعمال اور استعمال کی یہ نوعیت حکم کے اعتبار سے ایک ہی درجہ میں ہے؟ تاہم مصنف کی آراء سے اختلاف تو کیا جاسکتاہے لیکن ان کے تحقیقی ذوق کی داد دیے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔
بہرحال اپنے موضوع پر یہ کتاب نہایت عمدہ اور پُرمغز ہے۔ درمیانِ تحریر فقہاء کی عبارتیں بھی کثرت سے آئی ہیں ، جن کے حوالوں کا اہتمام کیاگیاہے اور بات پورے سلیقہ سے کی گئی ہے۔ امید ہے کہ جدید موضوعات سے دلچسپی رکھنے والے فضلاء و محققین کے لیے یہ دیگر موضوعات پر غور و خوض کرنے کا میدان فراہم کرے گی اور اصحابِ ذوق اس علمی و تحقیقی کاوش کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔
سہ ماہی ’’بحث و نظر‘‘ شمارہ جون ۲۰۰۴ء
تبصرہ بقلم مولانا منور سلطان ندوی