تمباکو کی تباہ کاری کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ تمباکو سے پیدا شدہ امراض کی وجہ سے ہر سال ۴۲؍ لاکھ افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں ، جب کہ ناگا ساکی اور ہیروشیماپر جو ایٹم بم گرائے گئے تھے اس سے ڈھائی لاکھ افراد لقمۂ اجل بنے تھے،یعنی اس وقت تمباکو سے سالانہ ہلاک ہونے والوں کی بنسبت سولہویں حصے سے کم ہی ہلاک ہوئے تھے۔
ROYAL COLLEGE OF PHYSIANS کی ۱۹۷۷ء کی رپورٹ کے مطابق اگرا یک سگریٹ میں موجود نکوٹین کو نکال کر ایک صحت مند انسان کی رگ میں داخل کردیا جائے تو وہ فوراً ہلاک ہوجائے گا۔
ایس۔آئی میکملن نے بتایا ہے کہ صرف ایک سگریٹ آپکی زندگی کے اٹھارہ منٹ ضائع کردیتا ہے اور دس سگریٹ کی ایک ڈبیہ آپکی زندگی کے تین گھنٹے کم کردیتی ہے ۔
امریکی وزیر صحت EVERETT KOOP نےLARRY WHITE کی کتاب MERCHANTS OF DEATH کے مقدمہ میں جو۱۹۸۸ء میں شائع ہوئی ہے لکھا ہے کہ ۱۹۸۵ء تک گذشتہ تیس سالوں میں ۸۰؍ ممالک میں پچاس ہزار سے زیادہ طبی تحقیقات کی گئی ہیں جن میں تمباکو سے پیدا شدہ امراض و وفیات پر روشنی ڈالی گئی ہے ،اور سالانہ دوہزار تحقیقات کا مزید اضافہ کرلیا جائے جن میں تمباکو سے متعلق نقصانات پر روشنی ڈالی جاتی ہے ۔
تمباکو سے پھیپھڑے،نرخرے،منہ،آنت ، مثانہ وغیرہ کینسر کاشکار ہوجاتے ہیں سب سے زیادہ قلب کے امراض پیدا ہوتے ہیں ،تمباکو ذہن کو کمزور کردیتا ہے ، اعصاب میں کھینچاؤ پیدا ہوجاتا ہے، نگاہ کمزور ہوتی ہے، قوت سماعت کمزور ہوجاتی ہے ، سرچکرانے لگتا ہے ،قوت ہاضمہ بگڑ جاتی ہے اور قوت مردانگی متاثر ہوتی ہے، صرف بر صغیر ہند(ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش)میں تمباکو چبانے سے دس لاکھ سے زیادہ افراد منہ