مسئلہ میں بلاامتیاز ملت و مذہب سبھی اطباء متفق ہیں ،یہاں تک کہ بعض کمپنیوں نے صراحتاًاپنی ہلاکت خیز حرکتوں سے تائب ہونے کا اعلان کردیا۔
برطانیہ کے ایک طبی رسالے LANCETنے ۱۴؍فروری ۱۹۸۷ء کے شمارے میں آسٹریلیا میں واقع تمباکو کمپنیوں کا شِیَر ہولڈروں کے نام ایک خط شائع کیاتھا جس میں لکھا تھا کہ ربع صدی سے ہم کمپنیوں کے مالکان پبلک سے تمباکو کے نقصانات کو مختلف وسائل سے مخفی رکھنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن آج ہم اعتراف کرتے ہیں کہ آسٹریلیا میں سالا نہ۲۳ ہزار افراد کی جان لے لیتے ہیں ۔۱۹۶۲ء سے ۱۹۸۴ء تک ہم کمپنی والوں نے چار لاکھ ستر ہزارآسٹریلین باشندوں کو ہلاک کردیا،لہٰذا ہم اپنی عظیم ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں ،اور آئندہ ایسی اشیاء کے فروغ کے لیے مہم نہیں چلائیں گے جو سالانہ اتنی بڑی تعداد میں بنی نوع انسان کو ہلاک کردے۔
امریکہ کی مشہور تمباکو کمپنی PHILIPS MORRIS نے تو بے حیائی سے جولائی۲۰۰۱ء کے اوائل میں اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ تمباکو نوشوں کے قبل از وقت مرجانے سے اقتصادی فائدہ ہے، بطور شواہد کمپنی نے واضح کیا کہ جمہوریہ چیک نے تمباکو نوشوں کے قبل از وقت وفات پاجانے سے ۱۴۷ ملین ڈالر کی بچت کی یعنی اگر وہ لوگ زندہ رہتے تو انکی طبی نگہداشت پر حکومت کو یہ خطیر رقم خرچ کرنی پڑتی،اس رپورٹ کو پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حکومتوں کو باور کرایاجاسکے کہ تمباکو نوشی سے اقتصادی فائدہ ہے ۔
عالمی صحت تنظیم(W.H.O.)نے ۱۹۷۵ء میں ایک رپورٹ شائع کی تھی کہ تمباکو نوشی کی وجہ سے دنیا میں مرنے یا اس کے ہاتھوں بدحال زندگی گزارنے والوں کی تعداد ان لوگوں سے کہیں زیادہ ہے جو طاعون، چیچک،تپ دق، جذام میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس دار فانی سے کوچ کرجاتے ہیں ۔