زمانہم تمباکو پر تحقیقات منظر عام پر نہ آنے کی وجہ سے اس قسم کی گنجائش تھی ، اب جبکہ حقائق سامنے آچکے ہیں اور تمباکو کے صحت ِ انسانی پر خطرناک حد تک نقصانات کو تسلیم کرلیا گیا ہے تو اس سلسلے میں اہل علم کا خاموشی اختیار کرنا ہر گز مناسب نہیں ہے بلکہ انہیں یکجا ہوکر اس کے بارے میں متحدہ موقف ا ختیار کرکے تمباکو نوشی کے خلاف مہم میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے ۔۱؎
تمباکو نوشی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں ، تمباکو نوشی اور صحت کے بارے میں ہر سال ایک عالمی کانفرنس کا بھی اہتمام کیا جاتاہے اور تمباکو نوشی نہ کرنے کا دن (No Tobacco day)ہر سال ۳۱ مئی کو عالمی صحت تنظیم کی طرف سے منایا جاتاہے ۔
راقم الحروف اپنی اس تحریر میں علمی امانت کے پیش نظر تمباکو کا تعارف کراتے ہوئے اس کی حلت و حرمت سے متعلق مختلف نقطہ ہائے نظر کو مدلل پیش کرے گا اور تمباکو سے پیدا ہونے والے امراض اور انسانی صحت پر اس کے مہلک اثرات کی وجہ سے ان لوگوں کے موقف کی تائیدکرے گا جو انسداد ِ تمباکو نوشی کے حامی ہیں یا تمباکو نوشی کی حرمت کے قائل ہیں ۔ امید ہے کہ یہ پیش کش شاعر کے قول :
لقد أسمعت لونادیت حیاً
ولکن لا حیاۃ لمن تنادی
کا مصداق نہیں ہوگی ، بلکہ شاعر کے قول :
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اترجائے تیرے دل میں میری بات
------------------------------