تمباکو کی زہرناکی اور اس کے ذریعے مختلف بیماریوں کے پیدا ہونے کے خدشات پر تفصیل سے روشنی پڑتی ہے۔ مؤلف نے تمباکو کو مکروہِ تحریمی فرمایاہے جو ان کی ذاتی رائے ہے ، ہمارے نزدیک تمباکو مضر صحت تو ضرور ہے مگر وہ تحریمی نہیں ، اسی طرح مؤلف کا یہ کہنا کہ ’’تمباکونوش علمائے دین کو امامت و خطابت ، تدریس و افتاء جیسے اہم عہدوں سے دور رکھنا چاہیے‘‘، یہ بھی زیادتی ہے ، البتہ تمباکو کے استعمال سے نفیس طبائع کو تکلیف ہوتی ہے ، اس لیے ایسی جگہوں پر جہاں تمباکو کے استعمال کو غلط اور معیوب سمجھا جاتا ہو مثلاً مسجدوں ، خانقاہوں ، مذہبی مقاموں ، بزرگوں کی مجلسوں اور درسگاہوں وغیرہ میں بالکل استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
دورانِ درس اساتذہ کو بھی پان، بیڑی، سگریٹ، سگار، نسوار، حقہ، گٹکا اور کھینی وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہیے کہ اس سے کتاب اور درسگاہ کا تقدس پامال ہوتاہے۔ اسی طرح دورانِ تقریر منہ سے نکلنے والے چھینٹوں سے سامنے رکھی ہوئی کتاب بھی محفوظ نہیں رہتی جس کا راقم کو بھی مشاہدہ ہے اور سنجیدہ طبقہ اس کو قطعاً اچھا نہیں سمجھتا۔
مولانا حفظ الرحمن صاحب کا یہ کارنامہ لائقِ تحسین و آفرین ہے اور اس سلسلہ میں ان کے نیک جذبہ کی قدر کرنی چاہیے۔ میرے خیال سے اس کتاب کو اعلیٰ پیمانے پر شائع کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے کتاب کی طباعت و اشاعت کے جملہ حقوق بحقِ مؤلف محفوظ نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ حکیم الامت حضرت تھانویؒ اور دورِ حاضر میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مد ظلہ کی طرح بلا ترمیم و تنسیخ اشاعت کی عام اجازت ہونی چاہیے۔
کتاب اس لائق ہے کہ عوام و خواص میں یکساں پڑھی جائے اور اہلِ علم طبقہ کو بھی یہ کتاب اپنے مطالعہ میں ضرور رکھنی چاہیے۔
ماہنامہ ’’آئینۂ مظاہر علوم ‘‘ شمارہ مئی۔ ۲۰۰۵ء
٭